دعا عبادت ہے۔ حدیث میں آیا ہے کہ دعا عبادت کا مغز ہے۔ الدعاء مخ العبادة. الترمذی، رقم الحدیث 3771۔
بلکہ دعا ہی اصل عبادت ہے۔ الدعاء هو العبادة. الترمذی، رقم الحدیث 2969۔ یہ بات قرآن و حدیث میں مختلف انداز میں بیان کی گئی ہے۔
دعا کا اصل عبادت ہونا عین فطری ہے، کیونکہ آدمی جب خدا کے وجود کو اس کی صفاتِ کمال کے ساتھ دریافت کرتا ہے تو اسی کے ساتھ وہ یہ بھی دریافت کرتا ہے کہ خدا کے مقابلے میں میں بالکل بے حقیقت ہوں۔ خدا آقا ہے، میں بندہ ہوں۔ خدا دینے والا ہے، میں پانے والا ہوں۔ خدا قادر ہے، میں عاجز اور محتاج ہوں۔
یہ احساس اس کو فوراً ہی خدا کے سامنے دعا گو بنا دیتا ہے۔ دعا وہ سب سے بڑا رشتہ ہے جس کے ذریعے بندہ اپنے رب سے مربوط ہوتا ہے۔ دعا خدا اور بندے کے درمیان اتصال کا ذریعہ ہے۔ انسان جو کچھ پاتا ہے، دعا سے پاتا ہے۔
اور تمام اعمال کا مقصد آدمی کو خدا سے دعا کرنے والا بنانا ہے، تاکہ وہ خدا سے پانے والا بن جائے۔ مثال کے طور پر قرآن میں رمضان کے روزے کا حکم دینے کے بعد یہ آیت آئی ہے: "اور جب میرے بندے تم سے میری بابت پوچھیں، تو میں قریب ہوں، پکارنے والے کی پکار کا جواب دیتا ہوں"۔ تو چاہیے کہ وہ میرا حکم مانے اور مجھ پر یقین رکھے، تاکہ وہ ہدایت پائے۔ سورہ نمبر 2، آیت 186۔
یہی بات حضرت مسیح نے ان لفظوں میں کہی: "مانگو تو تم کو دیا جائے گا، ڈھونڈو تو پاؤ گے، دروازہ کھٹکھٹاؤ تو تمہارے واسطے کھولا جائے گا"۔ کیونکہ جو کوئی مانگتا ہے، اسے ملتا ہے، اور جو ڈھونڈتا ہے، وہ پاتا ہے، اور جو کھٹکھٹاتا ہے، اس کے واسطے کھولا جاتا ہے۔ دعا صرف کچھ الفاظ کی تکرار نہیں ہے۔ دعا ایک عمل ہے۔
بلکہ دعا سب سے بڑا عمل ہے۔ جس طرح حقیقی عمل کبھی بے نتیجہ نہیں رہتا، اسی طرح حقیقی دعا کبھی بے نتیجہ نہیں رہتی۔ جب کوئی بندہ حقیقی دعا کرتا ہے تو وہ گویا اپنے معاملے کو خدا کا معاملہ بنا دیتا ہے۔ اور جب کوئی معاملہ خدا کا معاملہ بن جائے تو کوئی بھی نہیں جو اس کو پورا ہونے سے روک سکے۔
کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 299۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.