Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Zikr aur dua.

Urdu · 4 min

ذکر اور دعا: حضرت عائشہ کی ایک روایت ہے جو حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے، اس کے الفاظ یہ ہیں: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "يذكر الله على كل أحيانه". صحیح البخاری، کتاب الاذان، صحیح مسلم، ابو داؤد، ابن ماجہ، کتاب الطہارا، الترمذی، کتاب الدعوات۔ یعنی رسول اللہ صلى الله عليه وسلم ہر موقع پر اللہ کا ذکر کرتے تھے۔ اس روایت کو اکثر محدثین نے "ابواب طہارت" کے تحت نقل کیا ہے، مگر اس روایت کا مسائلِ عبادت سے کوئی تعلق نہیں۔

اسی طرح کچھ لوگوں نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے کہ بار بار آدمی کی زبان سے "بسم اللہ، الحمدللہ، ان شاء اللہ، ماشاء اللہ" اور اسی طرح کے دوسرے مقرر کلمات نکلتے رہے، مگر یہ شرح بھی اس حدیث کی حقیقی معنویت کو بیان نہیں کرتی۔ اصل یہ ہے کہ ذکر اور دعا صاحبِ معرفت انسان کے تخلیقی کلمات ہیں۔ انسان کی زندگی میں بار بار مختلف قسم کے مواقع یا "احیان" یعنی occasions پیش آتے ہیں۔ اگر آدمی کے اندر سوچنے کی اور توسم کرنے کی صلاحیت ہو تو وہ پا لے گا کہ ان مواقع پر خدا کی یاد کا کوئی نہ کوئی پہلو موجود ہے۔

آدمی ان مواقع کو "پوائنٹ آف ریفرنس" بنا کر ان کو اعلیٰ درجے کی کیفیتِ ذکر اور کیفیتِ دعا میں تبدیل کر سکتا ہے۔ حضرت عائشہ نے پیغمبر اسلام کی زندگی میں یہی بات پائی تھی۔ انہوں نے دیکھا تھا کہ رسول الله صلى الله عليه وسلم ہر موقع کو "پوائنٹ آف ریفرنس" بنا کر اللہ کا ذکر کرتے ہیں یا اللہ سے دعا فرماتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ذکر اور دعا کچھ یاد کیے ہوئے الفاظ کو دہرانے کا نام نہیں۔

ذکر اور دعا یہ ہے کہ مختلف مواقع اور مختلف حالات آدمی کے لیے اللہ کو یاد دلانے والے، یعنی reminder، بن جائیں۔ ہر واقعے اور ہر تجربے کو وہ اللہ سے relate کر کے دیکھ سکے۔ ہر تجربے میں اس کو خدا کی خدائی کا کوئی پہلو نظر آ جائے۔ اس طرح کے شعوری احساس کے تحت جو الفاظ آدمی کی زبان پر جاری ہو جائیں، انہی کا نام ذکر اور دعا ہے۔

کتاب معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 298۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.