Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Shukr se izaafa.

Urdu · 4 min

شکر سے اضافہ: قرآن کی سورہ ابراہیم میں ارشاد ہوا ہے: «وَإِذْ تَأَذَّنَ رَبُّكُمْ لَئِن شَكَرْتُمْ لَأَزِيدَنَّكُمْ وَلَئِنْ كَفَرْتُمْ إِنَّ عَذَابِي لَشَدِيدٌ». سورہ نمبر 14، آیت 7: اور جب تمہارے رب نے تم کو آگاہ کر دیا کہ اگر تم شکر کرو گے تو میں تم کو زیادہ دوں گا، اور اگر تم ناشکری کرو گے تو میرا عذاب بڑا سخت ہے۔ And remember also the time when your Lord declared, "If you are grateful, I will surely bestow more favors on you, but if you are ungrateful, then know that my punishment is severe indeed. " سورہ نمبر 14، آیت 7: قرآن کی اس آیت میں نعمت میں اضافے سے مراد یہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں جو انسان خدا کی نعمتوں کا سچا شکر ادا کرے گا، اس کو آخرت میں جنت کی صورت میں زیادہ بڑا انعام دیا جائے گا۔

شکر دراصل اعتراف، یعنی acknowledgement، کا دوسرا نام ہے۔ نعمت کے ملنے پر منعیم کا اعتراف سب سے بڑی عبادت ہے، اور یہی عبادت وہ چیز ہے جو کسی انسان کو جنت کا مستحق بنائے گی۔ نعمت کیا ہے؟ نعمت دراصل احساس لذت، یعنی sense of enjoyment، کا دوسرا نام ہے۔

کوئی چیز پرلذت اسی لیے ہے کہ ہمارے اندر لذت کا احساس موجود ہے۔ اگر لذت کا احساس نہ ہو تو کوئی بھی چیز لذت کا ذریعہ نہیں بن سکتی۔ کائنات میں انسان واحد مخلوق ہے جو لذت کا احساس رکھتا ہے۔ موجودہ دنیا میں انسان کو عارضی طور پر اسی لیے رکھا گیا ہے کہ وہ لذتوں کو محسوس کر کے خدا کا شکر ادا کرے۔

جو انسان اس دنیا میں حقیقی شکر کا ثبوت دے گا، وہ اگلی دنیا میں ابدی جنت میں بسایا جائے گا، جہاں وہ اپنے احساس لذت کی کامل تسکین پا سکے۔ موجودہ دنیا انسان کے لیے عارضی شکر کا مقام ہے۔ یہی عارضی شکر وہ قیمت ہے جو کسی انسان کو ابدی جنت میں داخلے کا مستحق بناتی ہے۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 297۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.