Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Aadat ko chodna.

Urdu · 4 min

عادت کو چھوڑنا۔ اسلام کا کلمہ ہے: لا الہ الا اللہ۔ اس کلمے کے مطابق پہلے نفی کا درجہ ہے، اور اس کے بعد اثبات کا درجہ۔ کوئی آدمی جب تک "غیر اللہ" کی نفی نہ کرے، اس کو اللہ کے اقرار کا درجہ نہیں مل سکتا۔

دونوں یکساں طور پر کلمۂ توحید کا جز ہیں؛ ان میں سے کسی ایک کو دوسرے سے جدا نہیں کیا جا سکتا۔ یہ فطرت کا قانون ہے، یہ فطرت کا ابدی اصول ہے کہ ایک چیز کو چھوڑنے کے بعد ہی آدمی کو دوسری چیز ملے۔ خدا کی بنائی ہوئی اس دنیا میں، کسی انسان کو کوئی حقیقی چیز اسی وقت مل سکتی ہے جبکہ وہ اس سے پہلے غیر حقیقی چیزوں کو چھوڑ چکا ہو۔ غیر حقیقی چیز کو نہ چھوڑنا، اور حقیقی چیز کو پانے کی امید رکھنا، یہ دونوں چیزیں صرف ایک خوش فہم انسان کے دماغ میں فرضی طور پر اکٹھا ہو سکتی ہیں، مگر حقیقت کی دنیا میں اس طرح کی یکجائی ممکن نہیں۔

جو عورت یا مرد سچائی کا مسافر بننا چاہے، اس کے لیے ضروری ہے کہ وہ فطرت کے اس قانون کو جانے۔ مثلاً اکثر ایسا ہوتا ہے کہ لوگوں کی زندگی میں غلط عادتیں شامل ہو جاتی ہیں۔ یہ عادتیں مختلف قسم کی ہوتی ہیں، مثلاً ہنسی مذاق کی باتیں، پان سگریٹ کا استعمال، فضول خرچی، نمائشی کام، تفریحی مشغلے، لطیفہ گوئی، گپ شپ، رواجی تکلفات، اور رسمی تحفے تحائف کی بے معنی دھوم۔ اس قسم کی مختلف عادتیں ہیں جن میں لوگ مبتلا ہو جاتے ہیں۔

ان عادتوں کا بیک وقت دو بڑا نقصان ہیں: ایک یہ کہ یہ عادتیں انسان کے اندر سطحیت پیدا کرتی ہیں؛ وہ آدمی کو اعلیٰ ذوق سے محروم کر دیتی ہیں۔ اور دوسرے یہ کہ یہ عادتیں آدمی کے وقت اور اس کے وسائل کا بڑا حصہ کھا جاتی ہیں۔ آدمی اس قابل نہیں رہتا کہ وہ کسی سنجیدہ کام میں اپنے آپ کو بھرپور طور پر لگا سکے۔ حقیقت یہ ہے کہ غلط عادتیں قاتل عادتیں ہیں؛ وہ انسان کو انسان کے درجے سے گرا کر حیوان کے درجے تک پہنچا دیتی ہیں۔

کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 221۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.