Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Musbat shakhsiyat ki tameer.

Urdu · 7 min

مثبت شخصیت کی تعمیر: روسو، یعنی ژین ژاکس روسو، فرانس کا مشہور جمہوری مفکر ہے۔ وہ 1712 میں پیدا ہوا اور 1778 میں اس کی وفات ہوئی۔ وہ شخصی بادشاہت کے مقابلے میں عوامی حکمرانی کا علم بردار تھا۔ وہ اپنی مشہور کتاب "معاہدۂ عمرانی" یعنی Social Contract کا آغاز اس جملے سے کرتا ہے: "انسان آزاد پیدا ہوا تھا، مگر میں اس کو زنجیروں میں بندھا ہوا دیکھتا ہوں۔

" "Man was born free, but I see him in chain. " مگر انسان کا ایک اور مسئلہ ہے جو شاید اس سے بھی زیادہ سنگین ہے، اور وہ Conditioning ہے۔ ہر عورت اور مرد کسی ماحول میں رہتے ہیں، ماحول کی نسبت سے ہر ایک کے ذہن کی Conditioning ہو جاتی ہے، جو اس کو صحیح طرزِ فکر سے محروم کر دیتی ہے۔ آدمی اس قابل نہیں رہتا کہ وہ فطری انداز میں سوچ سکے۔

اس مسئلے کو دیکھتے ہوئے، روسو کے جملے کو زیادہ بہتر طور پر اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے کہ انسان خدائی فطرت پر پیدا ہوا تھا، مگر وہ ہر جگہ Conditioned دکھائی دیتا ہے۔ "Man was created on divine nature, but I see him psychologically conditioned. " ایک بچہ جب ماں کے پیٹ سے پیدا ہوتا ہے، اس وقت اس کو دیکھیے تو وہ معصومیت کا پیکر دکھائی دے گا۔ ایسا معلوم ہوگا جیسے کہ فرشتے نے انسان کی صورت اختیار کر لی ہے۔

پیدائش کے وقت انسان اپنے ذہن کے اعتبار سے خالص ذہن کا حامل ہوتا ہے۔ اس کی سوچ عین وہی فطری سوچ ہوتی ہے جو بطور واقعہ ہونا چاہیے۔ مگر انسان ایک سماجی حیوان، یعنی Social Animal ہے۔ اس کو اپنی ساری زندگی دوسروں کے بنائے ہوئے سماج کے اندر گزارنا ہوتا ہے۔

اس بنا پر اس کا ذہن ہر آن خارجی تاثر قبول کرتا رہتا ہے۔ اسی کو Conditioning کہا جاتا ہے۔ یہ تاثر پذیری بڑھتی رہتی ہے، یہاں تک کہ انسان مکمل طور پر Conditioning کا کیس بن جاتا ہے۔ سنِ شعور کو پہنچنے کے بعد ہر عورت اور مرد کی یہ لازمی ذمہ داری ہے کہ وہ اس Conditioning کو سمجھے اور اپنے ذہن کی Deconditioning کر کے دوبارہ وہ اپنے آپ کو حالتِ فطری کی طرف واپس لے جائے۔

وہ اپنے آپ کو انسانِ مصنوعی کے بجائے انسانِ فطری بنائے۔ ماحول کی Conditioning اصل انسان کے اوپر ایک مصنوعی پردے کی حیثیت رکھتی ہے۔ گویا انسان کی شخصیت پیاز کی مانند ہے۔ پیاز کے اندر مٹر کی مانند ایک مغز ہوتا ہے۔

اس داخلی مغز کے اوپر خارجی پردے کے مانند بہت سے چھلکے ہوتے ہیں۔ اگر ان چھلکوں کو ہٹایا جائے تو پیاز کا اندرونی مغز کھل کر سامنے آ جائے گا۔ یہی معاملہ انسان کا ہے۔ انسان کی شخصیت کے اوپر ماحول کے اثر سے مصنوعی پردے پڑ جاتے ہیں۔

ان پردوں کو ہٹا دیا جائے تو انسان کی اصل شخصیت کھل کر سامنے آ جائے گی۔ انسانی شخصیت کے انہی خارجی پردوں کو ہٹانے کا نام Deconditioning ہے۔ جو آدمی سچائی کا طالب ہو، اس پر لازم ہے کہ وہ اپنی Deconditioning کر کے مصنوعی پردوں کو ختم کرے، تاکہ اس کی اصل شخصیت سامنے آ سکے۔ مذہب میں یہ تسلیم کیا گیا ہے کہ انسان خدا کی خاص تخلیق ہے۔

انسان جب پیدا ہوتا ہے تو وہ اسی خدائی شخصیت، یعنی Divine Personality، پر پیدا ہوتا ہے۔ وہ اپنے داخلی وجود کے اعتبار سے ایک صحیح اور کامل شخصیت ہوتا ہے۔ ابدی کامیابی کے لیے لازمی شرط یہ ہے کہ آدمی سب سے پہلے اپنی اس فطری شخصیت کی حفاظت کرے۔ وہ اپنے آپ کو اس حالتِ فطری پر قائم کرے۔

وہ اپنے آپ کو اس حالتِ فطری پر قائم کرے جس پر اس کے پیدا کرنے والے نے اس کو پیدا کیا ہے۔ اسی خود تعمیری جدوجہد کا نام Deconditioning ہے۔ حق کی تلاش یا حق کی یافت، دونوں ہی مثبت شخصیت کا فعل ہے۔ یہ دراصل مثبت شخصیت ہے جس کے اندر تلاشِ حق کا اعلیٰ جذبہ جاگتا ہے۔

اور یہ مثبت شخصیت ہی ہے جو اپنی سلامتِ فکر کی بنا پر آخر کار حق کی یافت کے مرحلے تک پہنچتی ہے۔ کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 222۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.