Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Ruhaaniyat kya hai.

Urdu · 4 min

روحانیت کیا ہے؟ ایک مجلس میں ایک صاحب نے یہ سوال کیا کہ اسلام میں روحانیت کا تصور کیا ہے، اور اسلامی نقطۂ نظر سے روحانیت کو پانے کا کیا اصول ہے۔ اس معاملے کی وضاحت کرتے ہوئے میں نے کہا کہ روحانیت یعنی spirituality کا لفظ بعد کی تاریخ میں بولا جانے لگا۔ قرآن میں اس مفہوم کے لیے جو لفظ استعمال ہوا ہے وہ ربانیت ہے، سورہ نمبر 3 آیت 79۔

روحانیت بلاشبہ ایک مطلوب چیز ہے؛ عام تصور یہ ہے کہ روحانیت کا مقام پانے کا ایک ہی ذریعہ ہے، اور وہ ترک دنیا یعنی renunciation ہے۔ مگر یہ صحیح نہیں۔ ترک دنیا سے جو چیز ملتی ہے وہ روحانیت نہیں ہے، بلکہ وہ رہبانیت ہے، اور رہبانیت اسلام میں نہیں۔ یعنی لا رهبانیة في الإسلام مسند احمد جلد 6 صفحہ 226۔

روحانیت یا ربانیت یہ ہے کہ آدمی کی داخلی شخصیت ربانی شخصیت بن جائے، وہ خدا اور آخرت کے تصور میں جینے لگے۔ روحانیت کا یہ درجہ فکری انقلاب کے ذریعے آتا ہے، نہ کہ مادی دنیا کو چھوڑنے کے نتیجے میں۔ یہ فکری انتقال کا ایک عمل ہے، نہ کہ جسمانی انتقال کا کوئی عمل۔ قرآن کے مطابق اس فکری انتقال کا ذریعہ توسم ہے۔

یہ روحانیت کسی کو اس ذہنی بیداری کے ذریعے ملتی ہے جس کو قرآن میں ذکرِ کثیر، سورہ نمبر 62 آیت 10 کہا گیا ہے۔ یہ ذکرِ کثیر کوئی لسانی تکرار نہیں، وہ دراصل ایک فکری عمل ہے۔ یعنی مادی چیزوں میں خدا کی نشانیاں دیکھنا، مادی تجربات سے آخرت کا سبق نکالنا، دنیا کی ہر چیز میں یہ ربانی پہلو چھپا ہوا ہے۔ روحانیت یہی ہے کہ آدمی دنیاوی یا مادی سرگرمیوں کے درمیان رہتے ہوئے ان نشانیوں کو دیکھے، وہ مادی تجربے کو روحانی تجربے میں convert کر سکے۔

روحانیت دراصل conversion کی اسی ذہنی صلاحیت کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ روحانیت نہ دنیا کو ترک کرنے سے ملتی ہے، اور نہ الفاظ کی لسانی تکرار سے۔ روحانیت کا درجہ اس کو ملتا ہے جو مادی دنیا کو اپنے لیے روحانی خوراک یعنی spiritual food بنا سکے۔ کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 224۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.