ایک مہلک عادت زندگی کی ایک صراطِ مستقیم ہے، یعنی سیدھا راستہ۔ جو شخص اس صراطِ مستقیم پر چلے، وہ لازمی طور پر کامیابی کی منزل تک پہنچ جاتا ہے۔ اس سفر میں رکاوٹ ڈالنے والی صرف ایک چیز ہے، اور وہ ڈسٹریکشن ہے، یعنی ادھر ادھر کی چیزوں کی طرف بھٹک جانا اور صراطِ مستقیم سے منحرف ہو جانا۔ جنت میں آدمی کے لیے جو شجرِ ممنوعہ تھا، وہ دراصل اسی ڈسٹریکشن کی علامت تھا۔
اس کے ذریعے آغازِ حیات ہی میں انسان کو بتا دیا گیا کہ جس دنیا میں تم کو امتحان کے لیے بسایا جا رہا ہے، وہاں تمہارے لیے بہت سے اشجارِ ممنوعہ، یعنی ڈسٹریکشن، کے اسباب ہوں گے۔ اگر تم نے اپنے آپ کو ان اشجارِ ممنوعہ کی طرف بھٹکنے سے بچایا تو تم کامیابی کے ساتھ دوبارہ اپنی منزل پر پہنچ جاؤ گے، ورنہ دوبارہ تم کو جنت ملنے والی نہیں۔ یہ ڈسٹریکشن مختلف صورتوں میں ہوتا ہے۔ آدمی اگر غور و فکر سے کام لے تو پہچان کر اپنے آپ کو ڈسٹریکشن سے بچا سکتا ہے۔
مگر سب سے زیادہ خطرناک ڈسٹریکشن وہ ہے جو آدمی کی زندگی میں عادت بن کر داخل ہو جائے۔ آدمی جس چیز کا عادی ہو جاتا ہے، وہ اس کو سوچے بغیر کرنے لگتا ہے۔ وہ اس کے غیر شعوری عمل کا حصہ بن جاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں اس قسم کی بہت سی نئی عادتیں پیدا ہوئی ہیں۔
لوگ بری طرح ان کے عادی ہو گئے ہیں۔ انہی میں سے ایک یہ ہے کہ بہت سے لوگ ٹیلی فون ایڈکٹ بنے ہوئے ہیں۔ وہ اتنے زیادہ ٹیلی فون کے عادی ہو گئے ہیں کہ ٹیلی فون کے بغیر ان کو چین نہیں آتا۔ اس تباہ کن عادت نے لوگوں کو ایک بہت بڑی محرومی میں مبتلا کر دیا ہے۔
وہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو دماغ دیا تھا تاکہ وہ بڑی بڑی باتوں کو سوچے اور بڑی بڑی حقیقتوں کو دریافت کرے۔ لیکن ہر آدمی موبائل لیے ہوئے چھوٹی چھوٹی بےکار باتوں میں مشغول رہتا ہے۔ اس کے پاس بڑی بڑی باتوں پر غور کرنے کے لیے وقت ہی نہیں۔ کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 225۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.