ڈی کنڈیشننگ کا طریقہ: ہر آدمی کسی ماحول میں پیدا ہوتا ہے، یہی ماحول ہر آدمی کا ذہن بناتا ہے۔ ذہنی تاثر پذیری کے اسی عمل کو کنڈیشننگ کہا جاتا ہے، یہی بلا استثنا ہر آدمی کا معاملہ ہے۔ ہر آدمی کا ذہن کنڈیشنڈ ذہن، یعنی کنڈیشنڈ مائنڈ ہے، یہی ہر آدمی کا سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ یہ کنڈیشننگ ہر آدمی کو فطرت سے ہٹا دیتی ہے، اس لیے ضرورت ہوتی ہے کہ ہر آدمی کی ڈی کنڈیشننگ کر کے اس کو فطرت کی طرف واپس لایا جائے۔
اس ڈی کنڈیشننگ کا صرف ایک طریقہ ہے، اور وہ محاسبہ، یعنی انٹروسپیکشن ہے، یعنی سخت انداز میں مسلسل طور پر اپنی اصلاح کا عمل جاری رکھنا۔ کسی آدمی کی یہ اصلاح دو طریقے سے ہوتی ہے: یا تو وہ دوسرے شخص کی سخت تنقید کو برداشت کرے، یعنی خارجی ہیمرنگ، کو کھلے ذہن کے ساتھ قبول کرے؛ وہ برا مانے بغیر دوسرے شخص کی سخت تنقید کو سن کر اپنے آپ پر نظرِ ثانی، یعنی ری اسسمنٹ، کا عمل کرے۔ اس ڈی کنڈیشننگ کا دوسرا طریقہ وہ ہے جس کو شدید خود احتسابی، یعنی سیلف ہیمرنگ، کہا جا سکتا ہے۔ یعنی آدمی اپنے آپ کو دشمن جیسی نظر سے دیکھے، وہ ہر صبح و شام اپنا جائزہ لیتا رہے، وہ اپنی ہر غلطی کو شدت کے ساتھ محسوس کرے، اور اس کو لے کر اپنا سخت محاسبہ کرے۔
وہ اپنے اوپر بے رحمانہ تنقید، یعنی مرسیلس ہیمرنگ، کرتا رہے۔ کسی معاملے میں وہ ہرگز اپنے آپ کو رعایت نہ دے؛ وہ دوسرے کو الزام دینے کے بجائے ہمیشہ خود اپنے آپ کو ملزم ٹھہرائے۔ وہ اپنے بارے میں اتنا سخت ناقد بن جائے جیسے کہ وہ اپنا ذبیحہ کر رہا ہے۔ ڈی کنڈیشننگ کے یہی دو ممکن طریقے ہیں: آدمی یا تو دوسرے کی بے رحمانہ تنقید کو برداشت کرے، یا وہ خود اپنا بے رحم ناقد بن جائے۔
جو آدمی دوسروں سے میٹھی بات سننا چاہے اور خود ہمیشہ اپنی رعایت کرتا رہے، ایسا آدمی ہمیشہ کنڈیشننگ میں جیے گا؛ اس کی کبھی ڈی کنڈیشننگ ہونے والی نہیں۔ کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 226۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.