Maulana Wahiduddin Khan
6 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Zahni inqilaab ke baghair ruhaaniyat.

Urdu · 6 min

ذہنی انقلاب کے بغیر روحانیت— روحانیت، یعنی spirituality— ہمیشہ سے انسان کی دلچسپی کا موضوع رہا ہے۔ اس کے نام ہر حلقے میں الگ الگ لیے جاتے رہے ہیں، مثلاً mysticism اور مراقبہ یعنی meditation، اور تصوف یعنی soofism وغیرہ۔ روحانیت کے محاذ پر ہزاروں سال سے زبردست سرگرمیاں جاری ہیں، مگر ابھی تک ان سرگرمیوں کا کوئی حقیقی فائدہ حاصل نہ ہو سکا۔ تمام کوششوں اور ریاضتوں کے بعد جو چیز حاصل ہوئی، وہ صرف بے شعور وجد یعنی ecstasy ہے، نہ کہ روحانی ارتقاء، جو کہ ان سرگرمیوں کا اصل مطلوب تھا۔

اصل یہ ہے کہ قدیم زمانے سے لوگ یہ ماننے لگے کہ انسان کا ذہن سوچ کا مرکز ہے، اور انسان کا دل جذبات و عواطف کا مرکز۔ کیونکہ روحانیت کو عواطف کی نوعیت کی چیز سمجھ لیا گیا، اس لیے انسان ہمیشہ مبنی بر قلب روحانیت یعنی heart-based spirituality پر عقیدہ رکھتا رہا۔ اس مفروضے کی بنیاد پر باقاعدہ فلسفہ وضع کیا گیا: یہ مان لیا گیا کہ انسان کا دل ہر قسم کے روحانی خزانوں کا سرچشمہ ہے، اور دل میں چھپے ہوئے احساسات کو جگا کر روحانی فیض حاصل کیا جا سکتا ہے۔ لیکن موجودہ زمانے میں سائنسی تحقیقات نے اس مفروضے کو بے بنیاد ثابت کر دیا۔

اب یہ قطعیت کے ساتھ معلوم ہو چکا ہے کہ فکر اور جذبات دونوں کا واحد مرکز صرف انسان کا ذہن یعنی mind ہے۔ جہاں تک دل کا تعلق ہے، وہ صرف گردشِ خون یعنی circulation of blood کا ذریعہ ہے، اس کے سوا اور کچھ نہیں۔ مزید تفصیل کے لیے ملاحظہ ہو: الرسالہ، نومبر 2004، صفحہ 23۔ جون 2005، صفحہ 6۔

فروری 2006، صفحہ 28۔ اگست 2006، صفحہ 33۔ یہی وجہ ہے کہ ہزاروں سال کی روحانی ریاضت کے نتیجے میں انسان کو جو چیز ملی، وہ صرف وجد یعنی ecstasy تھا، نہ کہ روحانی بنیاد پر ذہنی ارتقاء۔ اس قسم کی روحانیت دراصل روحانیت کی ایک کمتر صورت یعنی reduced form ہے، نہ کہ حقیقی معنوں میں روحانی ارتقاء۔

جیسا کہ معلوم ہے، وجد ایک مبہم کیفیت کا نام ہے، جبکہ انسان کی سب سے بڑی خصوصیت یہ ہے کہ وہ ایسا ذہن رکھتا ہے جس کے اندر سوچنے کی صلاحیت ہے۔ انسانی تاریخ کی تمام ترقیاں سوچ کی صلاحیت کو عمل میں لانے سے حاصل ہوئی ہیں۔ ایسی حالت میں روحانیت اگر کوئی چیز ہے تو اس کو بھی ذہن کی سطح پر حاصل ہونا چاہیے۔ تمام انسانی ترقیوں کا سرچشمہ انسان کے ذہن میں تفکیری عمل ہے۔

اسی طرح روحانی ترقی کا ذریعہ بھی تفکیری عمل کو ہونا چاہیے۔ روحانیت دراصل معرفتِ حقیقت کا اعلیٰ درجہ ہے۔ وہ مبہم بے خودی جیسی کوئی چیز نہیں۔ اس لیے حقیقی روحانیت وہی ہے جو کسی آدمی کو ذہن کی سطح پر حاصل ہو، نہ کہ قلب کی سطح پر۔

اس حقیقت سے بے خبری کی بنا پر ایسا ہوا کہ پوری تاریخ میں انسان حقیقی روحانیت کے حصول سے محروم رہا۔ اس نے جس چیز کو روحانیت سمجھا، وہ روحانیت نہیں تھی، اور جو اصل روحانیت تھی، اس سے بے خبری کی بنا پر وہ اس کو حاصل کرنے کی طرف اپنا سفر ہی شروع نہ کر سکا۔ تاریخِ انسانی کا یہ شاید سب سے بڑا المیہ ہے۔ اس سے بڑا المیہ اور کوئی نہیں۔

کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 227۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.