ربانیت، رہبانیت۔ قرآن کی سورہ الحدید میں بتایا گیا ہے کہ مسیحی لوگوں نے بعد کے زمانے میں رہبانیت کا طریقہ اختیار کر لیا، جس کی تعلیم ان کو پیغمبر کے ذریعے نہیں دی گئی تھی۔ سورہ نمبر 57، آیت 27۔ رہبانیت یعنی مناسٹسزم کیا ہے؟
رہبانیت دراصل خدا کی طلب میں دنیا کو چھوڑنے کا نام ہے۔ اسی لیے ایسے افراد کو تاریک الدنیا کہا جاتا ہے۔ رہبانیت کا فلسفہ یہ ہے کہ ترکِ دنیا سے خدا کی قربت حاصل ہوتی ہے۔ اسی ذہن کے تحت لوگوں نے وہ طریقے ایجاد کیے جن کو تجرد اور میڈیٹیشن اور مراقبہ وغیرہ کہا جاتا ہے۔
اس ذہن کی انتہا پسندانہ صورت یہ ہے کہ آدمی انسانی آبادیوں کو چھوڑ کر جنگلوں اور پہاڑوں میں چلا جائے، اور وہاں وہ روحانی ورزشوں کے ذریعے خدا کی قربت تلاش کرے۔ اسی کے اثر سے مسلمانوں کے اندر تصوف یا صوفی ازم کا نظریہ پیدا ہوا۔ اسلام میں اس قسم کی رہبانیت نہیں، یعنی لا رہبانیت فی الاسلام، مسند احمد جلد 6 صفحہ 226۔ اسلام کی رہبانیت فکری رہبانیت یعنی انٹلیکچول مناسٹسزم ہے، نہ کہ جسمانی یا مقامی رہبانیت۔
یعنی ذکر و فکر کی سطح پر خدا سے تعلق قائم کرنا۔ دنیا میں رہتے ہوئے دنیا سے بے رغبت ہو کر زندگی گزارنا۔ اسی کو قرآن میں ربانیت سورہ نمبر 3 آیت 79 کہا گیا ہے۔ یعنی خدا رخی سوچ، یعنی گاڈ اورینٹڈ تھنکنگ کے ساتھ دنیا میں زندگی گزارنا۔
قرآن کے مطابق موجودہ دنیا کی زندگی امتحان کی زندگی ہے۔ سورہ نمبر 67 آیت 2۔ یہاں ملنا بھی آزمائش ہے اور نہ ملنا بھی آزمائش۔ اسلامی رہبانیت یہ ہے کہ آدمی کی سوچ اتنی بلند ہو جائے کہ وہ دونوں حالتوں پر یکساں طور پر راضی رہے۔
وہ منفی تجربات کو بھی مثبت تجربے میں تبدیل کر سکے۔ وہ دنیا میں رہتے ہوئے مکمل طور پر آخرت کا طالب بن جائے۔ وہ انسانوں کے درمیان اس طرح رہے کہ ہر چیز اس کو خدا کی یاد دلانے والی بنی ہوئی ہو۔ ایسے افراد کو قرآن میں النفس المطمئنہ سورہ نمبر 89 آیت 27 کہا گیا ہے۔
اور یہی وہ نفوس ہیں جن کو آخرت کی دنیا میں خدا کا پڑوس ملے گا۔ وہ جنت کے باغوں میں داخل کیے جائیں گے، جہاں وہ ہمیشہ راحتوں اور خوشیوں کی زندگی گزاریں گے۔ کتاب معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 231۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.