محاسبہ کیا ہے؟ ایک روایت کے مطابق خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق نے فرمایا: "حاسبوا أنفسكم قبل أن تحاسبوا، وزنوا أنفسكم قبل أن توزنوا." شرح السنہ للبغوی، رقم الحدیث 4117۔ یعنی تم خود اپنا حساب کر لو، اس سے پہلے کہ تمہارا حساب کیا جائے۔ اپنے آپ کو تول لو، اس سے پہلے کہ تم کو تولا جائے۔
اس قول سے اپنی اصلاح کا ایک اہم اصول معلوم ہوتا ہے: آدمی اگر اس اصول کو پکڑ لے تو یہی اصول اس کی اصلاح اور تزکیے کے لیے کافی ہو جائے۔ محاسبہ یعنی introspection کا مطلب کیا ہے؟ محاسبہ دراصل اپنی غلطی کو دریافت کرنے کی کوشش کا نام ہے۔ انسان سے بار بار یہ غلطی ہوتی ہے کہ وہ سچائی کی صراطِ مستقیم سے ہٹ جاتا ہے۔
اسی نقطۂ انحراف کو ڈسکور کرنے کا نام محاسبہ ہے۔ Discover the point of your deviation from the truth. غلطی کی نفسیات یہ ہے کہ اگر آدمی انحراف کے آغاز میں اس کو دریافت کر لے تو آسانی کے ساتھ وہ اس کی اصلاح کر سکتا ہے۔ لیکن جب اسی حالت پر لمبی مدت گزر جائے تو اس کے بعد غلطی کی اصلاح تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔
اس لیے آدمی کو اس معاملے میں بہت زیادہ چوکنا رہنا چاہیے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ آغاز میں غلطی کا معاملہ صرف انحراف کا معاملہ ہوتا ہے، لیکن بعد کو وہ conditioning کا معاملہ بن جاتا ہے۔ انحرافِ اول کے وقت آدمی کا ضمیر، یعنی conscience، اس کو متنبہ کرتا ہے۔ لیکن اگر وہ ابتدائی انتباہ، یعنی warning کے وقت، اپنی اصلاح نہ کرے تو دھیرے دھیرے اس کی غلطی اس کے معمول کی زندگی میں شامل ہو جاتی ہے۔
وہ اس کے ذہن کا حصہ بن جاتی ہے، حتیٰ کہ وہ اس کے لاشعور، یعنی unconscious mind میں داخل ہو جاتی ہے۔ جب ایسا ہو جائے تو اس کے بعد اصلاح کا امکان عملاً ختم ہو جاتا ہے۔ کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 220۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.