عارفانہ دریافت کا سفر: قرآن میں بتایا گیا ہے کہ وَلَوْ أَنَّمَا فِي الْأَرْضِ مِنْ شَجَرَةٍ أَقْلَمٌ وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِنْ بَعْدِهِ، وَالْبَحْرُ يَمُدُّهُ مِنْ بَعْدِهِ سَبْعَةُ أَبْحُرٍ مَا نَفِدَتْ كَلِمَاتُ اللَّهِ. سورہ نمبر 31، آیت 27۔ یعنی اگر زمین میں جو درخت ہیں وہ قلم بن جائیں، اور سمندر ساتھ مزید سمندروں کے ساتھ روشنائی بن جائیں، تب بھی اللہ کے کلمات ختم نہ ہوں گے۔ اس آیت میں "کلمات اللہ" سے مراد وہی چیز ہے جس کو قرآن میں دوسرے مقام پر "آلاء اللہ" کہا گیا ہے، یعنی عجائبِ خداوندی، یعنی Wonders of God۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان کو عبادت سورہ نمبر 51 آیت 56 کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ صحابی مفسر عبداللہ ابن عباس نے اس آیت میں عبادت کا مطلب معرفت بتایا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے انسان کو ایک خصوصی مخلوق کے طور پر پیدا کیا ہے، انسان کو سوچنے والا دماغ دیا ہے جو کسی اور کو نہیں دیا۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ غور و فکر کے ذریعے تخلیقات میں چھپے ہوئے "آلاء اللہ" کو دریافت کرے، اور استعجاب کے درجے میں ان کا اعتراف کرے۔
گویا کہ قرآن کی مذکورہ آیت میں یہ کہا گیا ہے: "I created man only to discover and appreciate the wonders of God." تہذیب کا سفر دراصل اسی عارفانہ دریافت کا سفر تھا، مگر اس سفر کا ابھی 1% سے بھی بہت کم حصہ طے ہوا تھا کہ اس کی حد آ گئی۔ اب صورتحال یہ ہے کہ "کلمات اللہ" یا "آلاء اللہ" ابھی لامتناہی حد تک باقی ہیں۔ پھر کیا ایسا ہوگا کہ انسانی تاریخ یوں ہی نا تمام طور پر ختم ہو جائے، اور "کلمات اللہ" اسی طرح مخفی حالت میں باقی رہیں؟ ایسا ہونا ناممکن ہے۔
ضروری ہے کہ تخلیق کا منصوبہ پورا ہو۔ اتمام نور سورہ نمبر 61 آیت 8 کا عمل اپنی آخری حد تک پہنچے، وہ خدائی پیشنگوئی واقعہ بنے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَأَشْرَقَتِ الْأَرْضُ بِنُورِ رَبِّهَا سورہ نمبر 39 آیت 69۔ قیامت کے بعد بننے والی دنیا دراصل اسی ربانی تہذیب یا ان فولڈنگ کے عمل، یعنی Process of Unfolding کا تسلسل، یعنی Continuation ہے۔ موجودہ دنیا دارالامتحان ہے۔
یہاں صالح انسان اور غیر صالح انسان دونوں ملے ہوئے ہیں۔ قیامت کے بعد دونوں کو چھانٹ کر ایک دوسرے سے الگ کر دیا جائے گا۔ غیر صالح لوگوں کو ابدی طور پر محرومی کی دنیا میں ڈال دیا جائے گا، اور صالح انسانوں کو الگ کر کے ایک کامل اور معیاری دنیا میں بسایا جائے گا۔ اسی کا نام جنت ہے۔
کتاب معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 166۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.