ربانی تہذیب، جنت؛ دوسرے الفاظ میں ربانی تہذیب یعنی ڈیوائن سولائزیشن کی دنیا ہے۔ ربانی تہذیب کے تحت جو عمل انجام پائے گا، اس کو ایک لفظ میں "اعلی اللہ کی ان فولڈنگ" یعنی Unfolding of Divine Wonders کہا جا سکتا ہے۔ یہ عمل سادہ طور پر ایک عمل نہیں ہوگا، بلکہ وہ اعلیٰ ترین مسرت یعنی سپر جوائے کا تجربہ ہوگا۔ یہاں انسان ہر لمحہ ایک نئی پُراہتزاز دریافت، یعنی thrilling discovery، کرے گا۔
لازوال مسرت کی اس دنیا کی کوئی انتہا نہ ہوگی، اور نہ وہ کبھی ختم ہوگی۔ اسی جنت کے بارے میں قرآن میں آیا ہے: خَالِدِينَ فِيهَا لَا يَبْغُونَ عَنْهَا حِوَلًا سورہ نمبر 18، آیت 108۔ قرآن اور حدیث میں اہلِ جنت کے آرام و راحت کے لیے بہت سی چیزیں موجود ہوں گی۔ جنت میں آرام و راحت کی حیثیت دراصل خدائی ضیافت یعنی Divine Hospitality کی ہوگی۔
یعنی اہلِ جنت کی اصل سرگرمیاں اس لیے ہوں گی کہ وہ ربانی تہذیب کو بروئے کار لائیں۔ اسی کے ساتھ، اہلِ جنت کے لیے خدا کی طرف سے ہر قسم کے آرام و راحت کا سامان فراہم کیا جائے گا، یہاں تک کہ ان کی تمام خواہشیں کامل فُلفلمنٹ یعنی Total Fulfillment کے درجے میں پوری ہونے لگیں۔ کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 167۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.