← Kitaab-e-MarifatKitaab-e-Marifat
Marifat ka abadi safar.
Urdu · 6 min
معرفت کا ابدی سفر، وہ کون خوش نصیب لوگ ہوں گے جو آخرت کی روحانی تہذیب، یعنی سپرچول سیولائزیشن، کو ظہور میں لائیں گے اور تخلیق میں خدائی عجائب کو unfold کرنے کا ابدی رول ادا کریں گے؟ یہ وہ لوگ ہیں جو دنیا میں اس انوکھی صلاحیت کا ثبوت دیں کہ وہ دنیا کے محدود حالات میں معرفتِ خداوندی کی دریافت کی آخری حد تک پہنچیں۔ یہی وہ صلاحیت ہے جو ان کو اس کا اہل ثابت کرے گی کہ وہ آخرت کے لامحدود حالات میں خدائی معرفت کی دریافت کا ابدی سفر طے کریں۔ ساتویں صدی عیسوی میں بنو اسماعیل کو یہ موقع ملا کہ وہ پیغمبر آخر الزماں محمد ابن عبداللہ ابن عبدالمطلب کے اصحاب بن کر روایتی دور میں وہ عمل، یعنی process، جاری کریں جو آخر کار جنت کی روحانی تہذیب، یعنی سپرچول سیولائزیشن، تک پہنچنے والا تھا۔
بنو اسماعیل کی وہ صفت کیا تھی جس کی بنا پر وہ اصحابِ رسول کا درجہ پانے کے مستحق قرار پائے؟ اس کو ایک مثال سے سمجھا جا سکتا ہے۔ قدیم مکے میں قبائلِ قریش کے جو لوگ تھے، وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے حق کے متلاشی تھے۔ روایات میں ایسے لوگوں کو "حنفا" کہا گیا ہے، یعنی متلاشی۔
انہی حنفا میں سے ایک زید ابن عمر ابن نفیل تھے، اور اسماء بنت ابی بکر کہتی ہیں کہ میں نے زید ابن عمر ابن نفیل کو دیکھا ہے، وہ کعبے کی دیوار سے ٹیک لگائے ہوئے بیٹھے تھے اور وہ یہ کہہ رہے تھے: اللهم إني لو أعلم أحب الوجوه إليك عبدتك به ولكني لا أعلم السیرت النبویہ لابن کثیر، جلد 1، صفحہ 154۔ یعنی: اے اللہ! اگر میں جانتا کہ تیری عبادت کرنے کا سب سے اچھا طریقہ کیا ہے، تو میں اسی طرح تیری عبادت کرتا، مگر میں اس طریقے کو نہیں جانتا۔ یہ ایک شخصی واقعہ نہیں، یہ دراصل بنو اسماعیل کی عمومی صفت کی ایک شخصی نمائندگی ہے۔
ساتویں صدی عیسوی کے بنو اسماعیل، قبل از اسلام کی مذہبی روایات میں آخری حد تک پہنچ چکے تھے، اس لیے اللہ تعالیٰ نے ان کو چنا کہ وہ بعد از اسلام کے انقلابی مذہبی رول کو انجام دیں۔ آخرت کے دور میں جو مطلوب رول ادا کرنا ہے، اس کو ایک لفظ میں روحانی تہذیب، یعنی سپرچول سیولائزیشن، کو ظہور میں لانے کا رول کہا جا سکتا ہے۔ اس رول کو انجام دینے کے لیے اعلیٰ سطح کے روحانی سائنسدان، یعنی سپرچول سائنٹسٹس، درکار ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کا شعور موجودہ دنیا کے اعتبار سے آخری دریافت کے مرحلے تک پہنچ گیا۔
یہ وہ اعلیٰ روحیں ہیں جو خدائی تخلیقات میں، اس کے اندر چھپی ہوئی، اس کے اندر چھپے ہوئے خدائی عجائب، یعنی ڈیوائن ونڈرز، کو دریافت کریں۔ ان کی یہ دریافت اتنی گہری ہو کہ وہ محسوس کریں کہ اس کے اظہار کے لیے ان کے پاس الفاظ موجود نہیں ہیں۔ کائناتی عجائب کو دیکھنے کے بعد دوبارہ وہ کہہ سکیں کہ خدایا! میں نہیں جانتا کہ میں تیرے تخلیقی عجائب کا بیان کس طرح کروں۔
اگر میں اس کو جانتا تو یقیناً میں انہیں مطلوب الفاظ میں اس کا اظہار کرتا۔ Oh God, I don't know how to appreciate Your wonders; if I had known it, if I had known it, I would certainly have appreciated in appreciated it in those words. موجودہ دنیا میں خدائی عجائب، یعنی ڈیوائن ونڈرز کی unfolding، عام انسانی الفاظ میں ہوئی تھی۔ آخرت کی دنیا میں خدائی عجائب کی unfolding، خدا کی طرف سے دیے ہوئے خصوصی الفاظ کے ذریعے ہوگی۔
دنیا میں یہ کام انسان کی مدد سے انجام پایا تھا، آخرت میں یہ کام فرشتوں کی مدد سے انجام پائے گا۔ اس کے بعد عجائبِ خداوندی کے ظہور کا وہ واقعہ پیش آئے گا جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَأَشْرَقَتِ الْأَرْضُ بِنُورِ رَبِّهَا سورہ نمبر 39، آیت 69۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 168۔