جنتی تہذیب، تہذیب یعنی سولائزیشن کا آغاز قدیم زمانے میں اس وقت ہوا جبکہ انسان نے لوہے کو دریافت کیا۔ یہ دور ہزاروں سال تک چلتا رہا۔ ساتویں صدی عیسوی میں مسلم تہذیب کا آغاز ہوا۔ مسلم تہذیب کا بنیادی کارنامہ یہ تھا کہ اس نے فطرت یعنی نیچر کو پرستش کے مقام سے ہٹا کر اس کو تحقیق یعنی انویسٹیگیشن کے دور میں داخل کیا۔
اس کے بعد سولہویں صدی میں مغربی تہذیب کا دور شروع ہوا۔ اس دور کا خاص پہلو میکانائزیشن آف پاور تھا۔ تہذیب کا سفر امکان کے اعتبار سے ابھی ختم نہیں ہوا تھا کہ بیسویں صدی عیسوی میں اس کی ترقی اپنی آخری حد پر پہنچ گئی۔ معلوم ہوا کہ انسان کی قائم کردہ میکانیکل صنعت ایک لازمی مسئلے سے دوچار ہے، اور وہ کثافت یعنی پیلیوشن ہے۔
کثافت کے مسئلے نے موجودہ زمانے میں فضاؤں اور سمندروں کو آلودگی سے بھر دیا۔ قرآن کے یہ الفاظ آج پوری طرح واقعہ بن چکے ہیں: «ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِ النَّاسِ لِيُذِيقَهُمْ بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ». سورہ نمبر 30 آیت 41۔ یعنی خشکی اور تری میں فساد پھیل گیا، لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے، تاکہ اللہ مزہ چکھائے ان کو ان کے بعض اعمال کا، شاید کہ وہ باز آ جائیں۔
کتاب معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 165۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.