Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Lisan-e-qaum me dawat.

Urdu · 4 min

لسانِ قوم میں دعوت: قرآن کی سورہ ابراہیم میں پیغمبروں کے بارے میں بتایا گیا ہے: وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلَّا بِلِسَانِ قَوْمِهِ سورہ نمبر 14، آیت 4۔ یعنی خدا کی طرف سے جو پیغمبر بھی آیا، وہ اپنی مخاطب قوم کی زبان میں کلام کرتا تھا۔ قرآن کی اس آیت میں "لسان" سے مراد صرف زبان یعنی لانگویج نہیں ہے، بلکہ اس میں "کلام" کا اسلوب یعنی ایڈیم بھی شامل ہے۔ مثلاً پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے عربی زبان میں کلام کیا، یہ آپ کے لیے قوم کی زبان یعنی لسانِ قوم میں بولنا تھا۔

حضرت ابراہیم نے زمین اور آسمان کے ملکوت، سورہ نمبر 6، آیت 76 سے استدلال کرتے ہوئے، مدعو کے سامنے اپنی بات پیش کی۔ اور حضرت مسیح نے تمثیل یعنی میٹافور کے انداز میں اپنی بات کہی۔ یہ دونوں اسلوب کی مثالیں ہیں جو اپنے زمانے کے لحاظ سے استعمال کی گئیں۔ موجودہ زمانے میں دعوتی کلام وہ ہے جو وقت کی زبان میں ہو۔

وقت کی زبان کا ایک مطلب داعی کے اپنے علاقے کی زبان ہے، پھر یہ کہ موجودہ زمانہ گلوبلائزیشن کا زمانہ ہے، اس لحاظ سے ضروری ہے کہ داعی آج کی انٹرنیشنل زبان میں کلام کرے۔ اور جیسا کہ معلوم ہے، آج کی انٹرنیشنل زبان صرف ایک ہے، اور وہ انگریزی زبان ہے۔ لسان کے مسئلے کا دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ وہ معاصر مخاطبین کے اسلوب میں ہو۔ آج کا اسٹینڈرڈ اسلوب وہ ہے جس کو "سائنٹیفک اسلوب" کہا جاتا ہے۔

اگر آج کے انسان کو مخاطب کرنا ہے تو ضروری ہے کہ داعی کا کلام وقت کے اسلوب میں ہو۔ ورنہ یہ حال ہوگا کہ داعی بظاہر بولے گا، لیکن مدعو کا مائنڈ اس سے ایڈریس نہیں ہوگا۔ ایسے کلام کو دعوتی کلام نہیں کہا جا سکتا۔ سائنٹیفک اسلوب کیا ہے، اور قدیم روایتی اسلوب کیا تھا؟

قدیم روایتی اسلوب وہ تھا جس میں شعر، ادب، خطابت، رومانیت، تمثیل، اور مبالغہ آرائی کی زبان میں کسی بات کے کہنے کو بھی کہنا سمجھا جاتا تھا۔ جذباتی طور پر پرکشش الفاظ بولنے والے لوگ بھی دعوت کے مستحق قرار پاتے تھے۔ موجودہ زمانے میں اس قسم کا اسلوب پوری طرح متروک ہو چکا ہے۔ موجودہ زمانے کا اسٹینڈرڈ اسلوب "سائنٹیفک اسلوب" ہے۔

سائنٹیفک اسلوب وہ ہے جو مبنی برحقیقت اسلوب ہو، جس کے الفاظ اور معنی میں کامل مطابقت پائی جائے۔ دوسرے لفظوں میں کہا جا سکتا ہے کہ سائنٹیفک اسلوب وہ ہے جو پورے معنوں میں علمی اور منطقی یعنی ریشنل اسلوب ہو۔ موجودہ زمانے میں وہی لٹریچر دعوتی لٹریچر ہے جو اس سائنٹیفک اسلوب میں لکھا گیا ہو۔ یہی سائنٹیفک اسلوب قرآن کا اسلوب ہے۔

کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 164۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.