Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Insaniyat ki tareeq.

Urdu · 4 min

انسانیت کی تاریخ: مؤرخین نے تاریخ نگاری کے مختلف اسلوب اختیار کیے، مثلاً شاہی خاندان یعنی dynasty کو یونٹ بنا کر تاریخ لکھنا۔ جیسے مصر کے فرعون کی خاندانی بادشاہت، روس کے زار کی خاندانی بادشاہت، یا empire کو یونٹ بنا کر تاریخ لکھنا، مثلاً رومن ایمپائر، ساسانی ایمپائر یعنی Sassanid Empire، یا تہذیب یعنی civilization کو یونٹ بنا کر تاریخ لکھنا، جیسے مسلم تہذیب، مغربی تہذیب وغیرہ۔ لیکن تاریخ نگاری کا ایک اور اسلوب ہے، جو زیادہ بامعنیٰ اسلوب ہے، وہ یہ کہ خدا کے تخلیقی منصوبہ یعنی creation plan کی بنیاد پر تاریخ لکھی جائے۔ حقیقت یہ ہے کہ مؤرخین نے انسانیت کے جن پہلوؤں کو اہم قرار دے کر ان کی نسبت سے تاریخ لکھی ہے، وہ سب تاریخ کے اضافی یعنی relative پہلو ہیں۔

تاریخ نگاری کا حقیقی پہلو یعنی real یہ ہے کہ خدا کے منصوبۂ تخلیق کو سمجھا جائے، اور اس کے مطابق انسانی تاریخ کو مرتب کیا جائے۔ اس اعتبار سے، بنیادی طور پر انسانی تاریخ کے 4 دور ہیں: 1) انبیاء یعنی prophets کا دور: یہ دور حضرت آدم سے حضرت محمد تک پھیلا ہوا ہے۔ 2) صحابہ کا دور یعنی پیغمبرِ اسلام کے اصحاب یعنی companions کا دور۔ 3) الاخوان کا دور یعنی وہ لوگ جن کو حدیث میں اخوانِ رسول کہا گیا ہے۔

4) الصالحون کا دور: یہ دور قیامت کے بعد آخرت میں شروع ہوگا۔ خدا نے انسان کو ایک آزاد مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا۔ بہت سے انسانوں نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کیا، اور کچھ لوگوں نے اپنی آزادی کا صحیح استعمال کیا۔ اس طرح یہ تاریخ مختلف حالات سے گزرتی ہوئی آگے بڑھ رہی ہے۔

انسان کی آزادی کو باقی رکھتے ہوئے، خدا اس تاریخ کو manage کر رہا ہے۔ آخر کار خدا قیامت برپا کرے گا، اس کے بعد وہ لوگ منتخب کر لیے جائیں گے جنہوں نے خدا کی نظر میں اپنی آزادی کا صحیح استعمال کیا، اور جنہوں نے اپنی آزادی کا غلط استعمال کیا، وہ چھانٹ کر الگ کر دیے جائیں گے۔ اس معاملے کو بائبل میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: "The descendants of the wicked shall be cut off." سام، chapter 37، verse 38۔ کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ 86۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.