← Kitaab-e-MarifatKitaab-e-Marifat
Jin aur ins ki taqleeq.
Urdu · 7 min
جن اور انس کی تخلیق قرآن کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سیارہ زمین یعنی پلانٹ ارتھ کو استثنائی طور پر اس طرح بنایا ہے کہ یہاں زندگی کی بقا ممکن ہو سکے۔ خدا نے زمین پر وہ موافق نظام قائم کیا جس کو "معاون حیات نظام" یعنی لائف سپورٹ سسٹم کہا جاتا ہے۔ اس کے بعد زمین پر سب سے پہلے جنات سورہ نمبر 15 آیت 27 کو آباد کیا۔ زمین ایک عرصے تک جنات کے چارج میں رہی۔
جن آگ سے پیدا کیے گئے تھے، انہوں نے زمین پر فساد برپا کیا۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے جنات کو معزول کر کے انسان کو پیدا کیا اور ان کو زمین پر بسایا۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ خدا نے جب انسان کو بنایا، اس وقت یہاں دو اور مخلوق جن اور ملائکہ یعنی اینجلز موجود تھے۔ خدا نے دونوں کو یہ حکم دیا کہ وہ انسان کے آگے سجدہ کریں۔
یہ سجدہ اس بات کی علامت تھا کہ جن اور ملائکہ انسان کے لیے رکاوٹ نہیں بنیں گے، وہ انسان کو آزادی کے ساتھ عمل کا موقع دیں گے۔ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ إِنِّي جَاعِلٌ فِي الْأَرْضِ خَلِيفَةً سورہ نمبر 2 آیت 30۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انسان خلیفۃ اللہ ہے، بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان خلیفۃ الجن ہے۔ یعنی جنات کو ہٹا کر ان کی جگہ زمین پر انسان کو ایک آزاد مخلوق کی حیثیت سے آباد کیا گیا ہے۔
قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جب خدا نے انسان کو خلیفہ بنانے کا اعلان کیا تو فرشتوں نے اس پر اپنے تردد کا اظہار کرتے ہوئے کہا: أَتَجْعَلُ فِيهَا مَن يُفْسِدُ فِيهَا وَيَسْفِكُ الدِّمَاءِ سورہ نمبر 2 آیت 30۔ یہ بات فرشتوں نے غالباً جنات کے متعلق اپنے سابق تجربے کی بنیاد پر کہی۔ ان کا مطلب یہ تھا کہ جب آزادی پا کر جنات نے زمین پر فساد برپا کیا تو اسی طرح انسان بھی آزادی پا کر زمین میں فساد برپا کرے گا۔ اس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے فرمایا: إِنِّي أَعْلَمُ مَا لَا تَعْلَمُونَ سورہ نمبر 2 آیت 30۔
یعنی میں وہ جانتا ہوں جس کو تم نہیں جانتے۔ غور کرنے سے یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ جن اور انسان میں ایک بنیادی فرق ہے، وہ یہ کہ انسان کے خالق نے اس کی تخلیق میں استثنائی طور پر ایک طاقتور جذبہ شامل کیا جس کو ندامت یعنی فیلنگ آف گلٹ کہا جاتا ہے۔ یعنی انسان اپنی آزادی کا بے جا استعمال کر کے ایک غلطی کرتا ہے، لیکن اس کے بعد اس کے اندر ندامت کا احساس جاگتا ہے اور وہ اپنی اصلاح کی کوشش کرنے لگتا ہے۔ یہ جذبہ ندامت جنات کے اندر موجود نہ تھا۔
جن کو خالق نے آگ سے پیدا کیا تھا، اسی جذبہ ندامت کی بنا پر یہ امید تھی کہ انسان غلطی کر کے مستقل طور پر سرکش نہیں بن جائے گا جیسا کہ ابلیس نے کیا۔ بلکہ وہ غلطی کرنے کے بعد نادم ہوگا اور دوبارہ اصلاح کے راستے پر چلنے لگے گا۔ ندامت یعنی ریپنٹنس کا یہ جذبہ انسان کا ایک عظیم سرمایہ ہے۔ اس کی وجہ سے یہ ممکن ہوتا ہے کہ آدمی صراط مستقیم سے بھٹکنے کے بعد دوبارہ مزید شدت کے ساتھ اس پر قائم ہو جائے۔
اس معاملے کی پہلی مثال خود انسان اول آدم کی زندگی میں ملتی ہے۔ قرآن کے مطابق انہوں نے ایک غلطی کی اور پھر توبہ کر کے انہوں نے نبوت کا درجہ حاصل کیا۔ سورہ نمبر 20 آیت 121 تا 122۔ بعد کی تاریخ میں اس قسم کی ایک معلوم مثال عمر بن عبدالعزیز اموی، وفات 720 عیسوی کی ہے۔
ان سے ایک غلطی ہوئی اور پھر انہوں نے توبہ کی۔ اس کے بعد ان کو یہ درجہ حاصل ہوا کہ وہ اسلام کی تاریخ میں ایک انتہائی ممتاز فرد قرار پائے، حتیٰ کہ ان کو خلفائے راشدین کی فہرست میں شامل کر کے پانچواں خلیفہ کہا گیا۔ کتاب معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 87۔