← Kitaab-e-MarifatKitaab-e-Marifat
Insan ka maqsad-e-hayaat.
Urdu · 8 min
انسان کا مقصدِ حیات قرآن میں بتایا گیا ہے کہ جنات اور انسان کو اس لیے پیدا کیا گیا ہے کہ وہ اللہ کی عبادت کریں۔ سورہ نمبر 51 آیت 56۔ صحابی مفسر عبداللہ ابن عباس کی تفسیر کے مطابق، صحابی مفسر عبداللہ ابن عباس کی تفسیر کے مطابق اس آیت میں عبادت سے مراد معرفت ہے۔ القرطبی، جلد 17، صفحہ 55۔
معرفت سے مراد کوئی پراسرار معرفت نہیں ہے؛ یہ دراصل خدا کے تخلیقی منصوبے کی معرفت ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان اپنی فکری صلاحیت، یعنی intellectual ability، کو استعمال کر کے اپنے خالق اور اپنے رب کو دریافت کرے، پھر وہ اپنے آپ کو خالق کے منصوبے میں شامل کرے۔ وہ اپنے آپ کو اس کا اہل بنائے کہ خدا اس کو اپنے اعلیٰ انعامات سے نوازے۔ وہ اپنے آپ کو جنت کے لیے لائق امیدوار، یعنی deserving candidate، ثابت کرے۔
قرآن کی یہ آیت اس سلسلے میں رہنما آیت کی حیثیت رکھتی ہے: خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا سورہ نمبر 67 آیت 2۔ قرآن کی اس آیت کے مطابق موجودہ دنیا ایک انتخابی مقام، یعنی selection ground ہے۔ یہاں آزادی کے ماحول میں انسان کو رکھ کر یہ دیکھا جا رہا ہے کہ کون اپنے آپ کو احسن العمل، یعنی best in conduct، ثابت کرتا ہے۔ زندگی کا یہ تصور زندگی کو نہایت بامعنی بنا دیتا ہے۔
برٹش سائنسدان سر جیمز جینز نے دیکھا کہ انسان اس دنیا میں آتا ہے اور اس کا انجام یہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے دماغ کو استعمال نہیں کر پاتا، اس کی خواہشوں کو fulfillment نہیں ملتا، اور وہ مر کر اس دنیا سے چلا جاتا ہے۔ یہ دیکھ کر اس نے کہا کہ انسان بھٹک کر ایک ایسی دنیا میں آ گیا ہے جو اس کے لیے بنائی نہیں گئی تھی۔ Man has strayed into a world which has not been made for him لیکن قرآن کے مذکورہ تصورِ حیات کی روشنی میں دیکھیں تو انسانی زندگی ایک انتہائی بامعنی واقعہ بن جاتی ہے۔ قرآن میں خدا کی صفت احسن الخالقین سورہ نمبر 95 آیت 4 بتائی گئی ہے۔
دوسری طرف انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ احسن العمل سورہ نمبر 67 آیت 2 بنے۔ اس سے معلوم ہوا کہ خدا کی جو صفت خدائی سطح پر ہے، وہی صفت انسان سے انسانی سطح پر مطلوب ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ خدا کی یہ صفت قدرت کی سطح پر ظاہر ہوتی ہے، اور انسان کے اندر یہ صفت اطاعت، یعنی obedience، کی سطح پر۔ ایک مشہور قول ہے: تَخَلَّقُوا بِأَخْلَاقِ اللّٰهِ شَرْحُ الْعَقِيدَةِ الطَّحَاوِيَةِ جلد 1، صفحہ 120۔
یعنی اللہ والے اخلاق کو اپناؤ۔ یہ قول حدیثِ رسول نہیں ہے، لیکن وہ قرآن کے مذکورہ بیان سے مطابقت رکھتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے آپ کو اخلاقِ خداوندی کے مشابہ بنائے۔ کسی مجبوری کے بغیر، وہ اپنی آزادی کا صحیح استعمال کرتے ہوئے احسن العمل بنے۔
جو لوگ اس معیار پر پورے اتریں، وہ خدا کے مطلوب انسان قرار پائیں گے۔ ان کو آخرت کی معیاری دنیا میں خدا کے پڑوس میں جگہ ملے گی۔ سورہ نمبر 67 آیت 11۔ سورہ نمبر 66 آیت 11۔
وہ اس قابل ٹھہریں گے کہ ان کو خدا کی مہمان داری، یعنی hospitality، کا شرف حاصل ہوگا۔ سورہ نمبر 41 آیت 32۔ قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ پوری کائنات اللہ کی اطاعت کر رہی ہے۔ سورہ نمبر 30 آیت 26۔
اس اعتبار سے مادی کائنات انسان کے لیے اطاعتِ الہی کے ایک ماڈل کی حیثیت رکھتی ہے۔ فرق صرف یہ ہے کہ انسان کامل آزادی کے باوجود خود اپنے اختیار سے اپنے آپ کو اللہ کی اطاعت میں دے دیتا ہے، جبکہ بقیہ کائنات جبر، یعنی compulsion، کے تحت یہ اطاعت کر رہی ہے۔ اختیارانہ اطاعت، یعنی submission by choice، ایک استثنائی ظاہرہ ہے جس کا ثبوت اس دنیا میں صرف انسان دیتا ہے۔ کائنات کی ہر چیز، ذرے سے لے کر ستاروں، یعنی stars، اور سیاروں، یعنی planets، تک کامل طور پر خالق کی عظمت بیان کر رہی ہے۔
مگر ان کا یہ بیان خاموش زبان میں ہے۔ ایسی ایک دنیا میں انسان کھڑا ہو کر نطق، یعنی speech، کی زبان میں کہتا ہے کہ خدایا تو سب سے بڑا ہے، میں تیری عظمت کا اعتراف کرتے ہوئے اپنے آپ کو تیرے آگے جھکاتا ہوں۔ یہ صرف انسان ہے جو شعور کی سطح پر خالق کو دریافت کرتا ہے، اور پھر اپنے شعور کی سطح پر خالق کا اعتراف کرتے ہوئے اس کے آگے مکمل طور پر اپنے آپ کو surrender کر دیتا ہے۔ یہی شعوری surrender جنت کی قیمت ہے۔
کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 88۔