← Kitaab-e-MarifatKitaab-e-Marifat
Ambiya ka daur.
Urdu · 6 min
انبیاء کا دور: خالق کے منصوبہ، یعنی کرییشن پلان، کے مطابق انسان کو ٹیسٹ کے لیے اس دنیا میں رکھا گیا ہے۔ ٹیسٹ کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ اس کا معیار، یعنی کرائٹیرین، کیا ہے۔ وہ معیار یہ ہے کہ کون شخص ملی ہوئی آزادی کا صحیح استعمال کرتا ہے، اور کون شخص اس ملی ہوئی آزادی کا غلط استعمال کرتا ہے۔ صحیح اور غلط کا فرق جاننے کے لیے خالق نے پہلا انتظام یہ کیا کہ انسان کی فطرت میں صحیح اور غلط کی تمیز رکھ دی۔
یہی وہ حقیقت ہے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا سورہ نمبر 91، آیت 8۔ صحیح اور غلط کو جاننے کے لیے فطرت کی یہ رہنمائی گویا کہ ایک غیر منطوق رہنمائی، یعنی ان اسپوکن گائیڈنس ہے۔ یہ رہنمائی پیدائشی طور پر ہر عورت اور مرد کے اندر یکساں طور پر موجود رہتی ہے۔ اسی کے ساتھ خالق نے منطوق رہنمائی، یعنی اسپوکن گائیڈنس، کا انتظام کیا۔
اس دوسرے انتظام کے تحت اللہ تعالیٰ نے ہر دور میں اور ہر بستی میں اپنے پیغمبر بھیجے۔ سورہ نمبر 35، آیت 24۔ ان پیغمبروں کو وحی، یعنی ریولیشن، کے ذریعے وہ رہنمائی بھیجی گئی جس کو قرآن میں الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ سورہ نمبر 1، آیت 5 کہا گیا ہے۔ یہ پیغمبر تاریخ انسانی کے ہر دور میں مسلسل آتے رہے۔
سورہ نمبر 23، آیت 44۔ آدم پہلے انسان بھی تھے اور پہلے پیغمبر بھی۔ اس کے بعد حضرت محمد تک جو پیغمبر آئے، ان کی تعداد حدیث میں تقریباً 124000 بتائی گئی ہے۔ مسند احمد بن حنبل، رقم الحدیث 22288۔
قرآن میں نام کے ساتھ 25 پیغمبروں کا حوالہ آیا ہے۔ تاہم جدید ذہن کے نزدیک یہ تمام پیغمبر غیر تاریخی پیغمبر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ ان کے نزدیک ان پیغمبروں کو تاریخی پیغمبر، یعنی ہسٹاریکل پرافٹس، کا درجہ حاصل نہیں۔ پیغمبروں کی پوری تاریخ میں صرف پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا استثنا ہے۔
پیغمبر اسلام محمد ابن عبداللہ ابن عبدالمطلب مکمل طور پر ایک تاریخی پیغمبر کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس حقیقت کا اعتراف ایک مغربی اسکالر نے ان الفاظ میں کیا ہے کہ "محمد تاریخ کی مکمل روشنی میں پیدا ہوئے"۔ "Muhammad was born within the full light of history. " پچھلے پیغمبروں کا ذکر تاریخ میں کیوں موجود نہیں؟
اس کا سبب تاریخ نگاری کا قدیم ذوق ہے۔ قدیم زمانے میں صرف بادشاہوں کے حالات، یا جنگ اور فتح کے واقعات قابل ذکر سمجھے جاتے تھے۔ چونکہ پچھلے پیغمبروں کے ساتھ اس طرح کے سیاسی واقعات جمع نہیں ہوئے، اسی لیے قدیم مؤرخین نے پیغمبر کو تاریخی طور پر قابل ذکر نہیں سمجھا۔ آخری رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں بڑے بڑے سیاسی واقعات پیش آئے، اس لیے آپ کے ہم عصر مؤرخین نے آپ کے ظہور کو ایک تاریخی واقعے کی حیثیت دی اور اپنی کتابوں میں ایک واقعے کے طور پر اس کا اندراج کیا۔
خدا کی طرف سے جتنے پیغمبر آئے، سب ایک ہی پیغام لے کر آئے، اور وہ توحید کا پیغام تھا۔ یعنی انسان کو چاہیے کہ وہ ایک خدا کا عابد بن کر دنیا میں زندگی گزارے۔ لیکن پچھلے پیغمبروں میں سے کسی پیغمبر کے ساتھ کوئی مضبوط ٹیم جمع نہ ہو سکی۔ اس لیے ہر پیغمبر کا مشن عملاً توحید کے اعلان، یعنی اناؤنسمنٹ، کے درجے تک پہنچا۔
وہ توحید پر مبنی انقلاب کے درجے تک نہ پہنچ سکا۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تاریخ غیر موحدانہ آئیڈیالوجی پر چلتی رہی۔ تاریخ کا سفر موحدانہ آئیڈیالوجی پر جاری نہ ہو سکا۔ خدا کی یہ سنت ہے کہ وہ دعوت کے لیے اٹھنے والوں کی تائید فرماتا ہے۔
پچھلے پیغمبروں کو اس مقصد کے لیے جو تائید دی گئی، وہ معجزہ، یعنی میراکل، تھا۔ مثلاً حضرت موسیٰ کو یہ معجزہ کہ ان کا عصا ایک زندہ سانپ بن کر زمین پر چلنے لگا۔ مگر اس طرح کے خارقِ عادت معجزے کے باوجود لوگ پیغمبر کی دعوت کو قبول کرنے پر راضی نہ ہو سکے۔ معجزے کو انہوں نے جادو، یعنی میجک، قرار دے کر رد کر دیا۔
کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 90۔