← Kitaab-e-MarifatKitaab-e-Marifat
Nayi mansuba bandi.
Urdu · 9 min
نئی منصوبہ بندی: خالق کا وجود ایک ناقابلِ مشاہدہ وجود ہے، اس کے مقابلے میں مخلوق ایک قابلِ مشاہدہ چیز کی حیثیت رکھتی ہے۔ اس بنا پر تاریخ کے آغاز ہی سے ایسا ہوا کہ انسان مخلوق پرستی یا فطرت پرستی، یعنی نیچر ورشپ، میں مبتلا ہو گیا۔ عبودیت کے فطری جذبات، جو خالق کے لیے تھے، اس کو انسان نے مخلوق کے ساتھ وابستہ کر دیا۔ قرآن کی ایک آیت میں اس حقیقت کی طرف ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے: رَبِّ اِنَّهُنَّ اَضْلَلْنَ كَثِيرًا سورہ نمبر 14 آیت 36۔
یعنی جو چیزیں انسان کو زیادہ نمایاں دکھائی دیں، ان کو اس نے خدائی کا درجہ دے کر پوجنا شروع کر دیا۔ مثلاً سورج، چاند، ستارہ، پہاڑ اور سمندر وغیرہ۔ اس طرح تاریخ میں انسان کبھی عمومی طور پر مذہبِ توحید کو اختیار نہ کر سکا۔ تمام انسانی آبادیوں میں ایک ہی مذہب رائج ہوا، اور وہ مظاہر پرستی کا مذہب تھا۔
اسی مظاہر پرستی کو قرآن میں شرک یا مشرکانہ مذہب کا نام دیا گیا ہے۔ یہ سلسلہ نسل در نسل جاری رہا، یہاں تک کہ شرک کی روایات تاریخ کے تسلسل میں شامل ہو گئیں۔ اسی واقعے کو قرآن کی ایک آیت میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَلَا يَلِدُوا إِلَّا فَاجِرًا كَفَّارًا سورہ نمبر 71 آیت 27۔ اسی تاثر پذیری کو موجودہ زمانے میں کنڈیشننگ کہا جاتا ہے۔
قدیم زمانے میں ہر پیدا ہونے والا مشرکانہ روایات کے ماحول میں پیدا ہوتا تھا، اور دھیرے دھیرے وہ اسی میں پختہ ہو جاتا تھا۔ اس طرح ہر انسان کنڈیشننگ کا کیس بن گیا۔ اسی کنڈیشننگ کی طرف ایک حدیث میں ان الفاظ میں اشارہ کیا گیا ہے: كُلُّ مَوْلُودٍ يُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ فَأَبَوَاهُ يُهَوِّدَانِهِ وَيُنَصِّرَانِهِ وَيُمَجِّسَانِهِ صحیح البخاری، رقم الحدیث 1319۔ حضرت ابراہیم بن آزر، وفات 1985 قبل مسیح، قدیم عراق میں پیغمبر بنا کر بھیجے گئے۔
ان کی غیر معمولی دعوتی کوشش کے باوجود ان کی قوم انکار کی روش پر قائم رہی۔ ان کے زمانے تک یہ واضح ہو گیا کہ مجرد دعوت یا انذار و تبشیر لوگوں کی مشرکانہ کنڈیشننگ کو توڑنے کے لیے کافی نہیں۔ نسل در نسل کے روایتی تسلسل نے لوگوں کے ذہن کو شرک پر اتنا زیادہ پختہ کر دیا ہے کہ اب ان کے ذہنی شاکلہ، یعنی فریم ورک کو توڑنے یا ان کی ڈی کنڈیشننگ کرنے کے لیے ایک اور انقلابی منصوبہ درکار ہے۔ یہی وہ خدائی فیصلہ تھا جس کے تحت ہاجرہ اور اسماعیل کو عرب کے صحرا میں بسایا گیا۔
خدا کے حکم سے حضرت ابراہیم اپنی بیوی ہاجرہ اور اپنے چھوٹے بیٹے اسماعیل کو لے کر فرشتے جبرائیل کی رہنمائی میں شام سے نکلے۔ جب بھی وہ راستے میں کسی بستی سے گزرتے تو وہ جبرائیل سے پوچھتے کہ اے جبرائیل، کیا مجھ کو یہاں ٹھہرنے کا حکم دیا گیا ہے؟ جبرائیل کہتے کہ نہیں۔ اس طرح چلتے ہوئے وہ موجودہ مکے کے مقام پر پہنچے۔
اس وقت یہاں کوئی آبادی نہ تھی، صرف صحرا تھا یا خشک پہاڑ۔ بالآخر جبرائیل کے حکم سے حضرت ابراہیم نے اپنی بیوی اور اپنے چھوٹے بچے اسماعیل کو یہاں بسا دیا۔ حضرت ابراہیم جب اس طرح ہاجرہ کو چھوڑ کر وہاں سے جانے لگے تو ہاجرہ نے پوچھا کہ آپ ہم کو اس صحرا، یعنی ڈیزرٹ، میں چھوڑ کر کہاں جا رہے ہیں؟ ہاجرہ نے کئی بار پوچھا، مگر حضرت ابراہیم نے کوئی جواب نہیں دیا۔
آخر میں ہاجرہ نے کہا کہ کیا آپ کو اللہ نے ایسا کرنے کا حکم دیا ہے؟ أَلَّهُ أَمَرَكَ بِهَذَا؟ حضرت ابراہیم نے کہا کہ ہاں۔ یہ سن کر ہاجرہ نے کہا: إِذًا لَا يُضَيِّعْنَا اللَّهُ صحیح البخاری، رقم الحدیث 3364۔
یعنی پھر اللہ ہم کو ضائع نہیں کرے گا۔ یہ واقعہ 4000 سال پہلے عرب کے صحرا میں پیش آیا۔ اس کے بعد تحریک توحید کا ایک نیا دور شروع ہوا۔ اس نئے دور کو ایک جملے میں اس طرح بیان کیا جا سکتا ہے: ایک ایسی قوم تیار کرنا جو مشرکانہ ماحول کی کنڈیشننگ سے پاک ہو۔
یہ مقام جہاں ہاجرہ اپنے چھوٹے بچے کو لے کر آباد ہوئی، وہ متمدن شہروں سے بہت دور تھا۔ یہاں دن کے وقت صحرا اور پہاڑ اور سورج دکھائی دیتے تھے، اور رات کے وقت چاند اور ستارے نظر آتے تھے۔ اس طرح ایک بے آمیز ماحول میں توالد و تناسل کے ذریعے ایک نئی نسل بننا شروع ہوئی، جو تاریخ میں بنو اسماعیل کے نام سے مشہور ہوئی۔ اس نسل کی پرورش ایک انتہائی سادہ اور غیر متمدن ماحول میں ہوئی۔
اس بنا پر وہ مشرکانہ ماحول کی کنڈیشننگ سے محفوظ رہی۔ عام طور پر مؤرخین اس نسل کو ایک منفرد نسل کی حیثیت سے تسلیم کرتے ہیں۔ اس نسل کے افراد میں انسانی اوصاف اعلیٰ درجے میں موجود تھے۔ قدیم عرب ان اوصاف کو المروءہ کہتے تھے۔
زیادہ درست طور پر اس کو الفطرہ کہا جا سکتا ہے۔ اس دور کے بنو اسماعیل کی ان غیر معمولی صفات کی بنا پر ایک مغربی اسکالر نے ان کو ہیروں کی قوم، یعنی اے نیشن آف ہیروز، کا نام دیا ہے۔ ہاجرہ اور اسماعیل کے لیے یہ صحرائی زندگی غیر معمولی قربانی کی حیثیت رکھتی تھی۔ یہ قربانی کسی میدان جنگ میں لڑ کر مر جانے سے ہزاروں گنا زیادہ بڑی قربانی تھی۔
اسی لیے قرآن میں اس کو ذبح عظیم، سورہ نمبر 37 آیت 107، کہا گیا ہے۔ یعنی عظیم قربانی۔ قرآن کی اس آیت میں ذبح عظیم سے مراد مینڈھے کا ذبیحہ نہیں، بلکہ وہ خود اسماعیل کا ذبیحہ ہے۔ 4000 سال پہلے حضرت اسماعیل کا بے آب و بے آب و گیا صحرا میں آباد ہونا بلاشبہ ایک عظیم ترین قربانی کا درجہ رکھتا تھا، جسمانی معنوں میں نہیں بلکہ روحانی معنوں میں۔
کتاب معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 92۔