آخری رسول کا ظہور: پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم ایک اعتبار سے دوسرے رسولوں کی طرح ایک رسول تھے، آپ کی مزید صفت یہ تھی کہ اسی کے ساتھ آپ خاتم النبیین— سورہ نمبر 33 آیت 40 تھے۔ خاتم النبیین کا مطلب صرف یہ نہیں کہ آپ پیغمبروں کی لسٹ کے آخری فرد تھے؛ پیغمبرِ اسلام کی اصل حیثیت یہ ہے کہ آپ دو دوروں کے درمیان حدِ فاصل، یعنی لائن آف ڈیماکیشن، کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آپ کے اوپر دعوتِ توحید کا ایک دور ختم ہوا، آپ کے بعد دوسرے دورِ دعوت کا آغاز ہوا، جو قیامت تک مختلف صورتوں میں جاری رہے گا۔ یہاں سوال یہ ہے کہ ختمِ رسالت کے باوجود انسانی نسل کا سلسلہ برابر جاری ہے، پھر آپ کے بعد آنے والی نسلوں کی پیغمبرانہ ہدایت کی صورت کیا ہو؟
اس کا جواب قرآن کی اس آیت میں ملتا ہے: «عَسَى أَنْ يَبْعَثَكَ رَبُّكَ مَقَامًا مَّحْمُودًا» سورہ نمبر 17 آیت 79۔ قرآن کی اس آیت میں "مقام محمود" سے مراد کوئی پراسرار مقام نہیں ہے، بلکہ ایک معلوم مقام ہے۔ اس کا مطلب ہے: تاریخی طور پر مانا ہوا پیغمبر، یعنی historically acknowledged prophet۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے پہلے جو پیغمبر آئے، ان کی پیغمبرانہ حیثیت کا تعلق دنیا میں ان کی جسمانی موجودگی سے تھا۔
ان کی وفات کے بعد ان پر یقین کرنے کے لیے تاریخی شہادت درکار تھی، مگر تاریخی ریکارڈ میں ان کا حوالہ موجود نہ تھا۔ اس لیے بعد کی نسلوں کے لیے ان کی حیثیت تاریخی اعتبار سے ایک غیر تسلیم شدہ پیغمبر کی ہو گئی۔ جب آدمی زندہ موجود نہ ہو تو صرف تاریخ اس کی زندگی کا ثبوت ہوتی ہے۔ اس بنا پر یہ ہوا کہ انبیاء سابقین اپنی بعد کی نسلوں کے لیے خالص تاریخی اعتبار سے ہدایت کے مستند مرجع، یعنی authentic reference کی حیثیت سے باقی نہ رہے۔
مثال کے طور پر مشہور برٹش فلسفی برٹرینڈ رسل، وفات 1970، نے اپنی کتاب "میں مسیحی کیوں نہیں" یعنی "Why I Am Not a Christian" میں حضرت مسیح علیہ السلام کے بارے میں لکھا ہے کہ تاریخی اعتبار سے یہ امر سخت مشتبہ ہے کہ مسیح کا کبھی وجود بھی تھا۔ Historically, it is quite doubtful whether Christ ever existed at all. پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کو مقامِ محمود پر کھڑا کرنے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کے ساتھ ایسے اسباب اکٹھا کیے جائیں کہ آپ کو تاریخی طور پر ایک مسلم پیغمبر کی حیثیت حاصل ہو جائے، تاکہ آپ اپنی وفات کے بعد آنے والی نسلوں کے لیے بھی اسی طرح ایک قابلِ حوالہ پیغمبر کی حیثیت سے باقی رہیں، جیسا کہ آپ اپنی زندگی میں ایک قابلِ حوالہ پیغمبر کی حیثیت رکھتے تھے۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم واحد پیغمبر ہیں جن کی زندگی اور مشن کے بارے میں مکمل تاریخی ریکارڈ موجود ہے۔
اسی مسلمہ تاریخی ریکارڈ کو قرآن میں "مقام محمود" کہا گیا ہے۔ یہی ختمِ نبوت کی سب سے بڑی شہادت ہے: جب ایک پیغمبر کی زندگی اور اس کے مشن سے متعلق تمام تفصیلات قابلِ اعتماد صورت میں لکھی ہوئی محفوظ ہو جائیں، تو اس کے بعد یہ مستند تاریخی ریکارڈ پیغمبر کا قائم مقام بن جاتا ہے۔ اس کے بعد یہ ضرورت باقی نہیں رہتی کہ دوسرا پیغمبر آئے۔ کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 94۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.