← Kitaab-e-MarifatKitaab-e-Marifat
Ashab e rasool ka daur
Urdu · 8 min
اصحابِ رسول کا دور: مشہور صحابیِ رسول عبداللہ ابن مسعود کی ایک روایت ان الفاظ میں آئی ہے: «إن الله نظر في قلوب العباد، فاختار محمدًا صلى الله عليه وسلم، فبعثه برسالته وانتخبه بعلمه». ثم نظر في قلوب الناس بعده، فاختار الله له أصحابًا، فجعله أنصار دينه ووزراء نبيه. الاستعاب لابن عبدالبر، جلد 1، صفحہ 6۔ یعنی: اللہ نے بندوں کے دلوں کو دیکھا، پس اس نے محمد صلى الله عليه وسلم کو چن لیا، پیغمبری کے لیے آپ کی بعثت فرمائی، اور آپ کو اپنے علم کے مطابق منتخب کر لیا۔
اس کے بعد اللہ نے لوگوں کے دلوں کو دیکھا، اور رسول اللہ کے لیے آپ کے اصحاب کو چن لیا، ان کو اپنے دین کا مددگار اور اپنے نبی کا وزیر بنایا۔ اس روایت سے اور اس طرح کی دوسری روایتوں سے معلوم ہوتا ہے کہ اصحابِ رسول ایک منتخب گروہ کی حیثیت رکھتے تھے۔ یہ اصحابِ رسول کون لوگ تھے؟ یہ بنو اسماعیل کی اس نسل میں پیدا ہونے والے افراد تھے، جو خصوصی منصوبے کے تحت عرب کے صحرا میں تیار کیے گئے۔
ان کے اندر استثنائی طور پر وہ انسانی کردار موجود تھا جو دعوتِ توحید کی بنیاد پر ایک ٹیم بنانے کے لیے درکار تھا۔ اس کردار کے اہم پہلو قرآن کی ایک آیت میں ان الفاظ میں بیان کیے گئے ہیں: «مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ، وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ» سورہ نمبر 48، آیت 29۔ اس آیت میں "وَالَّذِينَ مَعَهُ" سے مراد ہے: تاریخی عظمت قائم ہونے سے پہلے خالص جوہر، یعنی میرٹ کی بنیاد پر، پیغمبر کو پہچاننا اور اس کی تصدیق کر کے اس کے مشن میں کامل طور پر اس کا ساتھی بن جانا۔ صحابہ کی جماعت میں یہ صفت ایک تاریخی استثنا کی حیثیت رکھتی ہے۔
پیغمبرِ اسلام سے پہلے جو پیغمبر آئے، ان کے معاصرین ان کو پہچاننے میں ناکام رہے۔ صحابہ کے اندر یہ صفت ان کی صحرائی تربیت کے نتیجے میں پیدا ہوئی۔ اس صحرائی تربیت نے ان کو آخری حد تک حقیقت پسند، یعنی رئیلسٹ، بنا دیا۔ وہ اس قابل ہو گئے کہ ایک حقیقت کو وہ اس کی مجرد صورت میں پہچان سکیں۔
عام طور پر لوگ کسی انسان کو صرف اس وقت پہچانتے ہیں جبکہ بات کو اس کے گرد تاریخ کی عظمتیں جمع ہو گئی ہوں۔ صحابہ وہ معاصر اہلِ ایمان تھے جنہوں نے تاریخی عظمت سے پہلے پیغمبر کو اس کی ساعتِ عسرٰی، سورہ نمبر 9، آیت 117 میں پہچانا، اور اس کے مشن کے لیے اپنے آپ کو پوری طرح وقف کر دیا۔ "أشدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ" کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صحابہ منکرین پر سخت یا بے رحم تھے۔ عربی زبان میں کہا جاتا ہے کہ "هُوَ شَدِيدٌ عَلَيَّ" یعنی "وہ میرا اثر قبول نہیں کرتا"۔
اس اعتبار سے "أشدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ" کا مطلب یہ ہے کہ صحابہ اہلِ انکار کے لیے غیر اثر پذیر افراد کی حیثیت رکھتے تھے۔ ان کا شعور اتنا زیادہ بیدار تھا کہ وہ ماحول کا اثر قبول کیے بغیر اپنے اسلامی کردار پر قائم رہ سکتے تھے۔ اس واقعے کو دوسرے الفاظ میں اس طرح کہہ سکتے ہیں کہ صحابہ اپنے ماحول کی کنڈیشننگ کو قبول نہیں کرتے تھے۔ وہ پوری طرح کنڈیشننگ سے پاک شخصیت، یعنی ڈی کنڈیشنڈ پرسنالٹی کی حیثیت رکھتے تھے۔
ان کے اندر یہ استثنائی صفت ان کی صحرائی تربیت کے نتیجے میں پیدا ہوئی۔ یہ لوگ بنو اسماعیل کی نسل سے تعلق رکھتے تھے، اور بنو اسماعیل کے لیے ان کے صحرائی ماحول میں وہ تمدنی اسباب سرے سے موجود ہی نہ تھے جو لوگوں کی کنڈیشننگ کریں اور اس طرح ان کو ان کی فطرت سے ہٹا دیں۔ "رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ" کا مطلب سادہ طور پر یہ نہیں ہے کہ صحابہ دوسروں کے لیے مہربان تھے۔ حقیقت یہ ہے کہ دوسروں کے لیے مہربان ہونا ایک نہایت مشکل کام ہے۔
اس کا سبب یہ ہے کہ اجتماعی زندگی میں بار بار دوسروں کی طرف سے ناپسندیدہ روش کا تجربہ ہوتا ہے۔ اس بنا پر عمومی طور پر یہی ہوتا ہے کہ لوگوں کے اندر ایک دوسرے کے لیے نفرت اور شکایت پیدا ہو جاتی ہے۔ اس بنا پر دوسروں کے لیے مہربان ہونا صرف اس وقت ممکن ہوتا ہے جبکہ آدمی شکایتوں سے اوپر اٹھ جائے، وہ اتنا زیادہ باشعور ہو کہ وہ منفی تجربات کو مثبت احساس میں تبدیل کر سکے۔ دوسروں کے لیے مہربان ہونے کا مطلب ہے: ایک طرفہ طور پر دوسروں کے لیے مہربان ہونا۔
اس حقیقت کو سامنے رکھا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ صحابہ کے اندر وہ خصوصی صفت موجود تھی جس کو مثبت سوچ، یعنی پازیٹو تھنکنگ، کہا جاتا ہے۔ صحابہ مثبت ذہن رکھنے والوں، یعنی پازیٹو تھنکرز، کا ایک گروہ تھے۔ اسی یکطرفہ مثبت سوچ کی بنا پر ان کے لیے یہ ممکن ہوا کہ وہ شکایات کے باوجود لوگوں کے لیے ہمدرد بن جائیں۔ لوگوں کی طرف سے ناخوشگوار تجربات پیش آنے کے باوجود وہ لوگوں کے لیے خیرخواہ بنے رہیں۔
کتاب "معرفت"، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 96۔