تلاوتِ قرآن۔ قرآن کی تلاوت وہ چیز ہے جس کے متعلق ارشاد ہوا ہے کہ ایمان والے وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر کیا جائے تو ان کے دل دہل جائیں، اور جب اللہ کی آیتیں ان کے سامنے پڑھی جائیں تو وہ ان کا ایمان بڑھا دیتی ہیں، اور وہ اپنے رب پر بھروسہ کرتے۔ سورہ نمبر 8، آیت 2۔ دوسری جگہ قرآن میں ارشاد ہوا ہے کہ جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر اتارا گیا ہے، تو تم دیکھو گے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں۔
اس سبب سے کہ انہوں نے حق کو پہچان لیا۔ وہ پکار اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب! ہم ایمان لائے، پس تو ہم کو گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔ سورہ نمبر 6، آیات 83 تا 84۔
قرآن براہِ راست خدا کا کلام ہے، اس میں خداوندی جلال کی گرج ہے، اس میں عبدیت کے احساس کو جگانے والی بجلیاں ہیں، اس میں وہ نورِ ربانی ہے جو کسی کے اندر اترے تو اس کے پورے داخلی وجود کو روشن کر دے۔ اس میں وہ شعلۂ حق ہے جو کسی قلب پر اترے تو وہ اس کو کوہِ طور کی طرح ریزہ ریزہ کر دے۔ ایسے کلام کی تلاوت، سادہ طور پر، تکرارِ الفاظ کا نام نہیں ہوتی؛ وہ دل و دماغ میں آگ لگانے کے ہم معنی ہوتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قرآن کا بار بار پڑھنا، شخصیتِ انسانی میں ایک انقلاب پیدا کرنے کا ذریعہ ہے۔
قرآن کی تلاوت، سادہ طور پر، ایک کتاب کی تلاوت نہیں ہے؛ یہ کلامِ الٰہی کا مطالعہ ہے۔ یہ گویا بالواسطہ انداز میں خدا سے ہم کلام ہونا ہے۔ ایسی حالت میں، تلاوتِ قرآن کے درمیان اس کے مطابق کیفیات کا ظہور ہونا چاہیے۔ اگر اس غیر معمولی کلام سے مطابقت رکھنے والی کیفیات آدمی کے اندر پیدا نہ ہوں تو سمجھا جائے گا کہ وہ غفلت میں مبتلا ہے۔
اس نے زندہ شعور کے ساتھ قرآن کو نہیں پڑھا۔ قرآن کو پڑھتے ہوئے ایسا ہونا چاہیے کہ آدمی کے اوپر خدا کی ہیبت طاری ہو، وہ اپنے آپ کو خدا کے قریب محسوس کرنے لگے۔ قرآن کا پڑھنا اس کو خدا سے ملانے والا بن جائے۔ قرآن کو پڑھنا اس کے لیے خدا سے زندہ تعارف کے ہم معنی ہو۔
قرآن میں وہ ایک طرف اپنی عبدیت کو پا لے، اور دوسری طرف خدا کی معبودیت اور اس کے جلال کو۔ کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 289۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.