Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Tadabbur-e-quran.

Urdu · 4 min

تدبرِ قرآن: قرآن کی سورۃ ص میں بتایا گیا ہے کہ «كِتَابٌ أَنْزَلْنَاهُ إِلَيْكَ مُبَارَكٌ لِّيَ تَدَّبَّرُوا آيَاتِهِ وَلِيَ تَذَكَّرَ أُولُو الْأَلْبَابِ». سورہ نمبر 38، آیت 29۔ یعنی یہ قرآن ایک بابرکت کتاب ہے جو ہم نے تمہاری طرف اتاری ہے تاکہ لوگ اس کی آیتوں پر غور کریں، اور تاکہ عقل والے اس سے نصیحت حاصل کریں۔ اس آیت میں "تدبر" سے مراد "تفکر" ہے۔

تفکر کیا ہے؟ تفکر دراصل عقل کو استعمال کرنے کا دوسرا نام ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ قرآن کو پڑھتے ہوئے اپنی عقل کو کھلا رکھو، کیونکہ عقلی غور و فکر کے ذریعے ہی کسی کو قرآن سے معنوی نصیحت ملتی ہے، نہ کہ محض لفظی تلاوت سے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ آدمی جب قرآن کی تلاوت کرے تو اس وقت وہ اپنی عقل کو استعمال کرتے ہوئے اس کی تلاوت کرے۔

اسی طرح جب وہ نماز میں قرآن کا کوئی حصہ پڑھے تو وہاں بھی وہ اپنی عقل و فہم کو کھلا رکھتے ہوئے قرآن کی تلاوت کرے۔ کوئی شخص جب اس طرح قرآن کی تلاوت کرے گا تو بار بار ایسا ہوگا کہ قرآن کی کوئی آیت یا قرآن کا کوئی لفظ اس کی عقل کو اسٹرائیک کرے گا۔ ایسے موقع پر آدمی کو چاہیے کہ وہ ٹھہر کر اس پر غور کرے۔ اس طرح اس کو قرآن سے نصیحت کی غذا ملتی رہے گی۔

مثال کے طور پر، قرآن کو پڑھتے ہوئے یہ آیت آپ کے سامنے آئی «فَأَثَابَهُمُ اللَّهُ بِمَا قَالُوا جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ». سورہ نمبر 5، آیت 85۔ اس آیت کو پڑھتے ہوئے آپ کو یہ حدیث یاد آئی «مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ دَخَلَ الْجَنَّةَ». الطبرانی، رقم الحدیث 2447۔

اس کے بعد آپ نے سوچا کہ دونوں باتوں میں مطابقت کیا ہے۔ پھر غور کرنے کے بعد آپ کی سمجھ میں آئے گا کہ حدیث میں جس قول کا ذکر آیا ہے، اس کی تشریح قرآن سے ہوتی ہے۔ یعنی حدیث میں جس قول پر جنت کا وعدہ کیا گیا ہے، اس سے مراد قولِ معرفت ہے، نہ کہ محض لفظی قول۔ یہی وہ چیز ہے جس کو تدبر اور تفکر، یعنی contemplation، کہا گیا ہے۔

کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 290۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.