قرآن کا توسیعی مفہوم: قرآن ایک آفاقی کتاب ہے، قرآن کا پیغام ایک ابدی پیغام ہے، قرآن کی آیتوں کا ایک ابتدائی مفہوم ہوتا ہے، اور دوسرا اس کا توسیعی مفہوم یعنی extended meaning۔ قرآن کو گہرائی کے ساتھ سمجھنے کے لیے اس حقیقت کو جاننا بہت ضروری ہے۔ قرآن کی سورہ الاسراء میں نماز فجر کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد ہوا ہے: وَقُرْآنَ الْفَجْرِ إِنَّ قُرْآنَ الْفَجْرِ كَانَ مَشْهُودًا سورہ نمبر 17، آیت 78۔ یعنی نماز فجر میں قرآن کی طویل قرأت کرو، کیونکہ فجر کی قرأت حضوری کی قرأت ہوتی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ فجر کا وقت سکون اور یکسوئی کا وقت ہوتا ہے، اس لیے اس وقت کی قرأت خصوصی کیفیات کی حامل بن جاتی ہے۔ اس آیت کا ایک توسیعی مفہوم یہ ہو سکتا ہے کہ آدمی صبح کی نماز اول وقت ادا کرے، اور پھر واک کرنے کے لیے وہ کسی پارک میں جائے، یا ایسے مقام پر جائے جہاں نیچر کی ہریالی ہو۔ ایسے مقام پر صبح کے وقت ایک قسم کا ملکوتی ماحول ہوتا ہے۔ اس ماحول میں آدمی خدا کی نشانیوں پر غور کرے، وہ قرآن کی آیتوں کو پڑھے، وہ تخلیق میں خالق کی معرفت حاصل کرے۔
اس کی ایک صورت یہ ہے کہ نماز فجر کی ادائیگی کے بعد کچھ لوگ اجتماعی طور پر ایسے مقامات پر جائیں، وہاں فطرت کے ماحول میں وہ ذکر کا حلقہ قائم کریں، وہ خدا کی باتوں کا چرچا کریں، وہ درس قرآن یا درس حدیث کی صورت میں نصیحت حاصل کریں، وہ فطرت کے مناظر میں خدا کے کمالات کا ذکر کریں، وہ روحانیت کی فضا میں اپنے لیے دینی غذا حاصل کرنے کی کوشش کریں۔ یہ گویا کہ تذکیر فجر ہے، جو قرآن فجر کی ایک توسیعی صورت ہے۔ اس قسم کا عمل بلاشبہ اضافہ ایمان کا باعث ہے، خواہ وہ انفرادی طور پر ہو یا اجتماعی طور پر۔ یہی قرآن کی ہر آیت کا معاملہ ہے۔
قرآن کی کسی آیت کا ایک مفہوم وہ ہے جو اس کے شانِ نزول یا سببِ نزول کے ذریعے معلوم ہوتا ہے۔ یہ آیت کا ابتدائی مفہوم ہے۔ اسی کے ساتھ قرآن کی ہر آیت کا ایک توسیعی مفہوم ہے۔ اس توسیعی مفہوم کے اعتبار سے ہر دور میں قرآن کے نئے معنی لوگوں پر کھلتے چلے جائیں گے۔
کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 284۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.