شکر کی اہمیت: قرآن کی پہلی آیت یہ ہے، "الحمد لله رب العالمين" یعنی شکر ہے خداوندِ عالم کے لیے۔ قرآن کی اس آیت سے شکر کی اہمیت معلوم ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کے تمام اعمال میں شکر ہی ایک ایسا عمل ہے جس کو انسان اپنی نسبت سے اعلیٰ ترین صورت میں کر سکتا ہے۔ دوسرے تمام اعمال، مثلاً عبادت اور اخلاق اور معاملات کی ادائیگی میں، مختلف اسباب سے کچھ نہ کچھ کمی رہ جاتی ہے۔
لیکن شکر کا تعلق دل اور دماغ سے ہے، اور جس چیز کا تعلق دل اور دماغ سے ہو، اس کے بارے میں یہ ممکن ہوتا ہے کہ آدمی اس کو اس کی کامل صورت میں ادا کر سکے۔ یہاں وہ اپنے تمام جذبات اور اپنی ساری سوچ کو خدا کے سامنے پیش کر سکتا ہے۔ یہ خصوصیت صرف شکر کو حاصل ہے۔ شکر کیا ہے؟
شکر دراصل اعتراف کا دوسرا نام ہے۔ انسانی معاملات میں جس چیز کو اعتراف کہا جاتا ہے، اسی کا نام خدائی معاملے میں شکر ہے۔ ہر آدمی کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے شعور کو اتنا زیادہ بیدار کرے کہ ہر ملی ہوئی چیز اس کو کامل معنوں میں خدا کا عطیہ دکھائی دے۔ وہ کامل جذبۂ اعتراف کے ساتھ یہ کہہ سکے کہ "خدایا تیرا شکر ہے"۔
خدا کی نعمتوں اور رحمتوں کا کامل احساس کر کے یہ کہہ پڑنا کہ "الحمد لله رب العالمين" یہی شکر ہے۔ اور یہ شکر بلاشبہ سب سے بڑی عبادت ہے۔ موجودہ دنیا میں وہ چیز بہت بڑے پیمانے پر موجود ہے جس کو لائف سپورٹ سسٹم کہا جاتا ہے۔ یہاں کی ہر چیز اس طرح بنائی گئی ہے کہ وہ کامل طور پر انسان کے لیے موافق اسباب کی حیثیت رکھتی ہے۔
ایسی حالت میں یہ ہونا چاہیے کہ انسان جب اس دنیا میں چلے پھرے اور اس کو استعمال کرے، تو وہ شکر اور اعتراف کے جذبے سے سرشار ہو۔ موجودہ دنیا کی تمام قیمتی چیزیں انسان کو سرتاسر مفت میں ملی ہوئی ہیں۔ سچا شکر ہی ان چیزوں کی قیمت ہے۔ جو آدمی یہ قیمت ادا نہ کرے، اس کی حیثیت اس دنیا میں غاصب کی ہے۔
اور غاصب کے لیے بلاشبہ سزا ہے، نہ کہ انعام۔ شکر کے احساس کے بغیر اس دنیا میں رہنا بلاشبہ ایک ناقابلِ معافی جرم کی حیثیت رکھتا ہے، عورت کے لیے بھی اور مرد کے لیے بھی۔ کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 283۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.