Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Tauba-e-nasooh.

Urdu · 3 min

توبہِ نصوح۔ قرآن کی سورہ التحریم میں بتایا گیا ہے کہ توبہِ نصوح کیا ہے۔ اس سلسلے میں ارشاد ہوا ہے: "اے ایمان والو! اللہ کے آگے توبہِ نصوح کرو۔

" امید ہے کہ تمہارا رب تمہارے گناہ معاف کر دے اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کرے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ جس دن اللہ نبی کو اور اس کے ساتھ ایمان والوں کو رسوا نہیں کرے گا، ان کی روشنی ان کے آگے اور ان کے دائیں طرف دوڑ رہی ہوگی۔ وہ کہہ رہے ہوں گے کہ: "اے ہمارے رب! ہمارے لیے ہماری روشنی کو کامل کر دے اور ہماری مغفرت فرما۔

بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے۔ " سورہ نمبر 66 آیت 8۔ نصوح یا ناصح کے معنی خالص کے ہیں۔ کہا جاتا ہے: "هَذَا عَسْلٌ نَاصِحٌ" یعنی یہ خالص شہد ہے۔

توبہِ نصوح کا مطلب خالص توبہ یا سچی توبہ ہے۔ مفسر القرطبی نے لکھا ہے کہ علماء نے توبہِ نصوح کے 23 معنی بتائے ہیں، مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ 23 مختلف معنی نہیں، بلکہ وہ خالص توبہ کے مختلف مظاہر ہیں۔ یہ مظاہر صرف 23 تک محدود نہیں، وہ اس سے بہت زیادہ ہیں۔ آدمی کسی گناہ میں مبتلا ہو جائے، اس کے بعد اس کو اپنی گنہگاری کا احساس ہو، وہ اپنے دل میں شدید طور پر شرمندہ یعنی repentant ہو، اور پختہ عزم کے ساتھ وہ خدا کی طرف رجوع کر لے، تو اسی کا نام توبہِ نصوح ہے۔

آدمی اگر حقیقی طور پر توبہِ نصوح کرے تو اس کے بعد اس کی پوری زندگی بدل جائے گی۔ اس کی سوچ کا رخ پہلے اگر غیر اللہ کی طرف تھا تو اب وہ اللہ کی طرف ہو جائے گا۔ پہلے اگر وہ غیر سنجیدہ تھا تو اب وہ سنجیدہ ہو جائے گا۔ پہلے اگر وہ غیر ذمہ دارانہ زندگی گزارتا تھا تو اب وہ ذمہ دارانہ زندگی گزارنے لگے گا۔

پہلے اگر وہ اپنے قول و عمل میں آزاد تھا تو اب وہ اپنے قول و عمل کا سخت پابند ہو جائے گا۔ پہلے اگر وہ آخرت سے بے خوف تھا تو اب وہ آخرت کے اندیشے میں زندگی گزارنے لگے گا۔ حقیقی توبہ آدمی کو بدل دیتی ہے، اور جو توبہ آدمی کو بدل ڈالے، وہی توبہِ نصوح ہے۔ کتاب معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 282۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.