Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Zikr ek tafkiri amal.

Urdu · 4 min

ذکر ایک تفکیری عمل ہے۔ قرآن میں امر کی زبان میں جو احکام دیے گئے ہیں، ان میں سے ایک حکم وہ ہے جس کے لیے ذکر کثیر کے الفاظ آئے ہیں۔ یہ حکم قرآن کی مختلف آیتوں میں ہے۔ ان میں سے ایک آیت یہ ہے: يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا سورہ نمبر 33، آیت 41۔

یعنی: اے ایمان والو! خدا کا بہت زیادہ ذکر کرو۔ ذکر کے لفظی معنی ہیں: یاد کرنا، یعنی to remember۔ یاد ایک معنوی حقیقت ہے، نہ کہ صرف ایک لفظی حقیقت۔

یہ ایک واقعہ ہے کہ انسان جب کسی کو یاد کرتا ہے تو وہ اس کو الفاظ کے وسیلے سے یاد کرتا ہے۔ مثلاً جب زید کو یاد کرنا ہو تو پہلے آدمی کے ذہن میں زید کا لفظ آئے گا، مگر یاد کے معاملے میں لفظ کی حیثیت صرف اضافی یعنی relative ہے، نہ کہ حقیقی یعنی real۔ اسی طرح جب آپ زید کو یاد کریں تو آپ کے ذہن میں ایک انسان کا تصور آئے گا، اور جب آپ خداوند ذوالجلال کو یاد کریں تو فطری طور پر آپ کے ذہن میں اس عظیم ہستی کا تصور آئے گا جو سارے زمین و آسمان کا خالق اور مالک ہے۔ جس کے اعلیٰ سورہ نمبر 7، آیت نمبر 74 اتنے زیادہ ہیں جن کا احاطہ نہیں کیا جا سکتا۔

اس طرح ذکر میں اپنے آپ تفکر اور تدبر اور تعقل کا مفہوم شامل ہو جاتا ہے۔ حدیث کی مختلف کتابوں میں حضرت عائشہ کی یہ روایت آئی ہے کہ کان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یذکر اللہ علی کل احیانی صحیح البخاری، کتاب الاذان۔ یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر موقع یعنی occasion پر اللہ کو یاد کرتے تھے۔ اس روایت کے مطابق ذکر کثیر یہ ہے کہ ہر تجربہ اور مشاہدہ آدمی کے اندر خدا کی سوچ پیدا کر دے۔

اس کے اندر خدا رخی سوچ یعنی God-oriented thinking پیدا ہو جائے۔ پورا عالم کون یعنی nature اس کے لیے خدا کی یاد دلانے والا بن جائے۔ یہ ذکر کثیر کسی قسم کے تکرار الفاظ کا نام نہیں۔ ذکر کثیر کا فطری طریقہ یہ ہے کہ آدمی اپنے ذہن کو اتنا زیادہ بیدار کرے کہ زندگی کے مختلف حالات کے درمیان وہ ہر چیز میں خدا کی یاد کا تجربہ کرنے لگے۔

ہر چیز اس کے لیے یاد الہی کا ذریعہ بن جائے۔ کتاب معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 281۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.