ناشکری کے حالات میں شکر۔ قرآن میں آدم اور ابلیس کا قصہ تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ سجدہ نہ کرنے کے نتیجے میں ابلیس کو جب رحمتِ خداوندی سے محروم کیا گیا، اس وقت ابلیس نے اللہ تعالیٰ سے کہا: قَالَ فَبِمَا أَغْوَيْتَنِي لَأَقْعُدَنَّ لَهُمْ صِرَاطَكَ الْمُسْتَقِيمَ ثُمَّ لَآتِيَنَّهُمْ مِنْ بَيْنِ أَيْدِيهِمْ وَمِنْ خَلْفِهِمْ وَعَنْ أَيْمَانِهِمْ وَعَنْ شَمَائِلِهِمْ وَلَا تَجِدُ أَكْثَرَهُمْ شَاكِرِينَ سورہ نمبر 7، آیات 16 تا 17۔ یعنی ابلیس نے کہا کہ چونکہ تو نے مجھ کو گمراہ کیا ہے، اس لیے میں بھی لوگوں کے لیے تیرے سیدھے راستے پر بیٹھوں گا۔
پھر میں ان پر آؤں گا، ان کے سامنے سے، اور ان کے پیچھے سے، اور ان کے دائیں سے، اور ان کے بائیں سے۔ اور تو ان میں سے اکثر لوگوں کو شکر گزار نہ پائے گا۔ اس آیت میں "گمراہ کرنے" کا مطلب آزمائش یعنی ٹیسٹ میں ڈالنا ہے۔ ابلیس کا مطلب یہ تھا کہ میں نارمل حالات میں درست تھا، لیکن سجدے کا حکم میرے لیے آزمائش کا سبب بن گیا۔
اس آزمائش نے مجھے ناکام کر دیا، اور میں تیری رحمت سے محروم ہو گیا۔ اب میں تمام انسانوں کے ساتھ یہی معاملہ کروں گا، یہاں تک کہ انسانوں کی اکثریت آزمائش میں ناکام ہو جائے گی۔ وہ شکر کے بجائے ناشکری کے راستے پر چل پڑے گی۔ قرآن سے ثابت ہے کہ ابلیس کو انسان کے اوپر کوئی اختیار حاصل نہیں۔
سورہ نمبر 16، آیت 99۔ پھر وہ کس طرح انسانوں کو شکر سے دور کرے گا؟ اصل یہ ہے کہ دنیا کی زندگی میں ہمیشہ ناشکری کے اسباب ہوتے ہیں۔ ناشکری کے حالات میں شکر گزار بننے کے لیے ضروری ہے کہ آدمی ناشکری کے اسباب کے باوجود شکر گزار بننے کا آرٹ جانے۔
یہی وہ مقام ہے جہاں ابلیس کو یہ موقع ملتا ہے کہ وہ انسان کو بہکا کر ناشکر گزار بنا دے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ ناشکری کو شکر میں تبدیل نہیں کر پاتا۔ وہ ناشکری کے ہر واقعے کو عذر بناتا رہتا ہے۔ اس طرح وہ شکر کی سعادت سے ہمیشہ کے لیے محروم ہو جاتا ہے۔
کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 280۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.