ذکر کیا ہے؟ مولانا عبدالماجد دریاوادی، وفات 1977 میں۔ قرآن کی آیت: فَاذْكُرُونِي أَذْكُرْكُمْ، سورہ نمبر 2 آیت 152 کی تشریح کے تحت اپنی تفسیر میں لکھا ہے: ابوبکر جساس رازی، وفات 370 ہجری نے، ذکر سے مراد لیا ہے آیاتِ الٰہی اور ان کی عظمت و قدرت کا تفکر، اور اسی کو سارے اذکار سے افضل اور ان کی اصل قرار دیا ہے۔ وَذِكْرُهُ بِالْفِكْرِ فِي دَلَائِلِهِ وَآيَاتِهِ وَقُدْرَتِهِ وَعَظْمَتِهِ، وَهُوَ أَفْضَلُ سَائِرِ وُجُوهِ الذِّكْرِ مَبْنِيَّةً عَلَيْهِ وَتَابِعَةً لَهُ.
احکام القرآن، جلد 1، صفحہ 112۔ اصل یہ ہے کہ اللہ کی ذات کا تصور ہم موجودہ دنیا میں صرف اللہ کی صفات کے ان مظاہر کے ذریعے کرتے ہیں جو ہمارے وجود میں اور کائنات میں ہر طرف بکھرے ہوئے ہیں۔ ان مظاہرِ فطرت میں تدبر کرنے سے ہم اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کرتے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ذکر، اللہ کے اسمِ ذات کی لفظی تکرار کا نام نہیں ہے۔
ذکر یہ ہے کہ اللہ کے تخلیقی مظاہر میں غور کیا جائے، تخلیقی کمالات کے ذریعے اللہ کی عظمت کو دریافت کیا جائے۔ یہی ذکر ہے، اور اسی ذکر کے ذریعے کسی انسان کو اللہ کی اعلیٰ معرفت حاصل ہوتی ہے۔ یہ ایک حقیقت ہے کہ ہم خدا کی ذات کا مشاہدہ نہیں کر سکتے، البتہ ہم خدا کی تخلیقات میں ضرور اس کی جھلک کو دیکھ سکتے ہیں۔ تخلیقاتِ الٰہی میں اسی غور و فکر کا نام ذکر ہے، اور اسی کے ذریعے کسی انسان کو وہ اعلیٰ درجۂ ایمان نصیب ہوتا ہے جس کو معرفت کہا گیا ہے۔
ذاتِ الٰہی کا مشاہدہ کرنے کی کوشش انسان کو یا تو وجد یعنی ایکسٹسی تک پہنچاتی ہے یا کنفیوژن تک، اور یہ دونوں ہی بلاشبہ غیر مطلوب ہیں۔ اس معاملے میں اصل مطلوب چیز وہی معرفتِ ربانی یعنی ڈیوائن ریالائزیشن ہے جو تدبر اور تفکر کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ اس منزل تک پہنچنے کا کوئی دوسرا راستہ نہیں۔ کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 275۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.