Maulana Wahiduddin Khan
7 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Darakht ki misaal.

Urdu · 7 min

درخت کی مثال: درخت خدا کی ایک انڈسٹری ہے۔ درخت کا آغاز ایک چھوٹے بیج سے ہوتا ہے، بیج کے اندر وہ تمام امکانات نہایت کاریگری کے ساتھ سموئے ہوتے ہیں کہ جب بھی اس کو موافق حالات ملیں، وہ ایک درخت کی صورت میں اپنے آپ کو ظاہر کرنا شروع کر دے۔ بیج کے بونے کی جگہ مٹی ہے، آپ بیج کو پتھر میں ڈال کر اس کے متوقع نتائج حاصل نہیں کر سکتے۔ بیج کو جب مٹی میں ڈالا جاتا ہے تو اچانک وہ پوری کائنات سے اس طرح جڑ جاتا ہے جیسے کہ ساری کائنات صرف اسی کی پرورش کے لیے بنائی گئی تھی۔

مٹی نرم ہو کر اس کو موقع دیتی ہے کہ وہ اس کے اندر اپنی جڑیں داخل کرے، اس کے بعد بیکٹیریا کروڑوں کی تعداد میں اس کی جڑوں میں جمع ہو جاتے ہیں تاکہ وہ فضا سے نائٹروجن الگ کر کے اس کی خوراک فراہم کریں۔ زمین کی تہیں اپنی معدنیات اور نمکیات کو پانی میں گھول کر اس کی جڑوں کو پہنچاتی ہیں تاکہ وہ کھنچ کھنچ کر اوپر کی طرف جائے اور درخت کی نشوونما کا ذریعہ بنے۔ زمین سے لے کر سورج تک کائنات کا پورا کارخانہ متحرک ہو جاتا ہے تاکہ اس کے لیے مختلف موسم پیدا کرے، اور گرمی اور سردی اور بارش کے حالات سے گزارتے ہوئے اس کو ایک مکمل درخت کی صورت میں کھڑا کر دے۔ یہ درخت پوری کائنات سے اس طرح ہم آہنگ ہوتا ہے کہ کہیں بھی ماحول کی دوسری چیزوں سے اس کا ٹکراؤ نہیں ہوتا۔

وہ اگر زمین سے پانی لیتا ہے تو وہ خود بھی زمین سے لی ہوئی رطوبت کو اپنے پتوں کے ذریعے خارج کر کے بارش کے عمل میں معاون بنتا ہے۔ درخت اگر زمین سے اپنی خوراک حاصل کرتا ہے تو خود بھی اپنے پتوں اور پھولوں کو زمین پر گرا کر اس کی زرخیزی میں اضافہ کرتا ہے۔ وہ اگر ہوا سے کاربن ڈائی آکسائیڈ لیتا ہے تو وہ ایک اور مفید چیز، آکسیجن کی صورت میں، ہوا کو لوٹا دیتا ہے۔ وہ کائنات سے الگ ہوتے ہوئے پوری کائنات سے اس طرح جڑا ہوا ہوتا ہے کہ کسی چیز سے بھی کبھی اس کا ٹکراؤ نہیں ہوتا۔

درخت سایہ تلاش کرنے والے کے لیے سایہ مہیا کرتا ہے، وہ اپنے پاس سے گزرنے والوں کے لیے مہک اور سرسبز منظر کا تحفہ پیش کرتا ہے۔ جو شخص اس سے غذا حاصل کرنا چاہے، اس کے لیے اس کے پاس لذیذ پھل موجود ہوتا ہے، حتیٰ کہ جو لوگ اس کو کاٹ ڈالتے ہیں، ان کو بھی وہ لکڑی مہیا کرتا ہے جس سے وہ اپنی مختلف تمدنی ضرورتوں کو پوری کریں۔ جب بھی تجربے کا کوئی لمحہ آتا ہے تو درخت عین وہی ثابت ہوتا ہے جس کی اس سے امید کی گئی تھی۔ ان سب کے ساتھ، درخت ایک ایسا وجود ہے جو زمین میں اپنی جڑیں داخل کر کے خود اپنے بل پر کھڑا ہوتا ہے۔

کہا جاتا ہے کہ درخت کا تقریباً نصف حصہ سطح زمین کے نیچے ہوتا ہے اور نصف حصہ سطح زمین کے اوپر۔ وہ زمین کی تہوں میں اس طرح گڑھا ہوا ہوتا ہے کہ کوئی اس کو اکھاڑ نہ سکے، اور فضا میں وہ اس طرح بلند ہوتا ہے کہ کائنات کی تمام چیزوں سے بے روک ٹوک اپنا رزق حاصل کرے۔ قرآن میں مومن کی مثال درخت سے دی گئی ہے، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ مومن کو کن صفات کا حامل ہونا چاہیے۔ مومن وہ ہے جس کے اندر وہی صفتیں انسانی سطح پر موجود ہوں جو درخت کے اندر مادی سطح پر پائی جا رہی ہیں۔

مومن کو وہی کام شعور کے تحت کرنا ہے جس کو درخت طبعی قانون کے تحت انجام دے رہا ہے۔ مومن کو خود اپنے ارادے سے اسی سرسبز دنیا کی تخلیق کرنی ہے جس کو ایک درخت قانون فطرت کی پابندی کے تحت جبراً وجود میں لاتا ہے۔ عام درخت مٹی کے اندر سے نکلتا ہے، مومن کا درخت روحانیت کی ربانی زمین پر اگتا ہے۔ ایک دنیا کے مادی اجزاء سے بنتا ہے اور دوسرا عالمِ آخرت کے جنتی اجزاء سے۔

عام درخت مادی دنیا کا درخت ہے تو مومن انسانی دنیا کا درخت۔ درخت ایک نمو پذیر وجود ہے، اسی طرح مومن بھی ایک نمو پذیر وجود ہے۔ مومن وہ انسان ہے جو ربانی فکر کی بنا پر اس قابل ہو جاتا ہے کہ پوری کائنات اس کے لیے معرفت کا دسترخوان بن جائے۔ کتاب معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 271۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.