Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Aafaaqi aawaaz.

Urdu · 4 min

افاقی آواز: آپ کی میز پر ایک ریڈیو سیٹ رکھا ہوا ہے، بظاہر وہ خاموش ہے، اس میں کوئی آواز نہیں۔ لیکن جب آپ نے اس کو کھولا تو اچانک اس میں سے آوازیں آنے لگیں، بامعنی آوازیں، جس کا ایک ایک لفظ آپ سمجھ رہے تھے، جس کی ایک ایک بات آپ کے ذہن میں اترتی چلی جا رہی تھی۔ اس کے بعد جب آپ نے اس کا سوئچ دبا کر اس کو بند کیا تو دوبارہ اچانک تمام آوازیں بند ہو گئیں۔ اب بولتا ہوا ریڈیو خاموش ہو گیا۔

اب بھی وہی مشین آپ کی میز پر رکھی ہوئی ہے، مگر اس سے کوئی آواز نہیں آ رہی ہے جس کو آپ سن سکیں۔ کائنات بھی اسی قسم کا ایک بہت بڑا خدائی ریڈیو سیٹ ہے، وہ ہر آن پیغامات نشر کر رہا ہے، کسی وقف، کسی وقفے کے بغیر ہر لمحہ اس سے آوازیں نکل رہی ہیں۔ وہ ہر صبح و شام یہ اعلان کر رہا ہے کہ یہ دنیا کیا ہے، انسان کو یہاں کیوں پیدا کیا گیا ہے، انسان کی کامیابی کیا ہے اور ناکامی کیا، انسان کہاں سے آیا ہے اور کہاں وہ دوبارہ لوٹ کر جائے گا۔ حق و باطل کا وہ کون سا خدائی معیار ہے جس پر موت کے بعد انسان کو جانچا جائے گا، اور جس کے مطابق اس کے ابدی انجام کا فیصلہ ہوگا؟

جس طرح انسانی ریڈیو کی آوازیں ہم صرف اس وقت سنتے ہیں جب کہ ہم ریڈیو کو آن کریں، اور اسی کے ساتھ ہم اپنے کان کھلے رکھیں، اسی طرح کائنات کے عظیم تر ریڈیو سے نکلنے والی آوازیں بھی وہی لوگ سنتے ہیں جو اس کی طرف دھیان لگائیں، اور اپنے دماغ کی کھڑکیاں اس کو سننے کے لیے کھلی رکھیں۔ کائناتی ریڈیو بظاہر اپنا پیغام خاموش انداز میں نشر کر رہا ہے، مگر سننے والوں کے لیے وہ ہر دوسری آواز سے زیادہ قابلِ سماعت ہے۔ وہ آسمان کی وسعتوں میں پھیلا ہوا ہے، وہ سورج کی روشنی میں نمایاں ہے، وہ پانی کی لہروں میں معجزن ہے، وہ ہوا کی صورت میں ہمارے چاروں طرف داخل ہو رہا ہے۔ غرض زمین کے پودوں سے لے کر آسمان کے ستاروں تک کوئی چیز ایسی نہیں جو اس افاقی پیغام رسانی میں مصروف نہ ہو۔

سننے والا صرف وہ ہے جو اس کائناتی آواز کو سنے اور اس کو اپنی زندگی کے لیے نشانِ راہ بنا لے۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 270۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.