ذکرِ کثیر: قرآن میں بتایا گیا ہے کہ اللہ کی یاد بلاشبہ سب سے بڑی چیز ہے۔ وَلَذِكْرُ اللَّهِ أَكْبَرُ دوسرے لفظوں میں، یہ کہ کسی انسان کے لیے سب سے بڑی عبادت یہ ہے کہ وہ اللہ کو یاد کرے۔ And remembrance of God is the greatest thing. سورہ نمبر 29، آیت 45۔
انسان سے یہ ذکر سب سے زیادہ مطلوب ہے۔ چنانچہ قرآن میں بار بار کہا گیا ہے کہ اللہ کو بہت زیادہ یاد کرو۔ اُذْكُرُوا اللَّهَ ذِكْرًا كَثِيرًا ذکرِ کثیر سے کیا مراد ہے؟ اس سے مراد کوئی عدد یا شماریاتی نصاب نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد ایک ذہنی کیفیت ہے۔
ایک روایت کے مطابق حضرت عائشہ نے کہا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: "يَذْكُرُوا اللَّهَ عَلَىٰ كُلِّ أَحْيَانِهِ". صحیح مسلم، رقم الحدیث 852۔ یعنی رسول اللہ صلى الله عليه وسلم ہر موقع، یعنی occasion، پر اللہ کو یاد کرتے تھے۔ اس روایت سے ذکرِ کثیر کا مفہوم سمجھا جا سکتا ہے۔
"أحيانه" میں "هي" کی ضمیر اللہ کی طرف راجع ہے، اس کا مطلب ہے أحيان الله، جیسے کہ قرآن میں آیا ہے: أيام الله۔ اصل یہ ہے کہ کوئی بھی معاملہ جو انسان کے ساتھ پیش آتا ہے، اس میں آلاء اللہ کا پہلو شامل رہتا ہے۔ آلاء اللہ سے مراد اللہ کے کرشمے، یعنی wonders of God ہیں، جو ہر چیز میں شامل ہیں۔ کوئی بھی چیز اس سے خالی نہیں۔
ذکرِ کثیر کا مطلب یہ ہے کہ آدمی جس چیز کو بھی دیکھے، یا اس پر جو بھی تجربہ گزرے، وہ اس کو اللہ کی یاد کے لیے ایک point of reference بنا لے۔ Make every experience a point of reference for the remembrance of God. ہر چیز اس کو خدا کی یاد دلائے۔ ہر تجربہ اس کے ایمان میں اضافے کا سبب بنتا رہے۔
ہر مطالعہ اور مشاہدہ اس کے لیے خدا سے قربت کے ہم معنی بن جائے۔ کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 276۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.