شکایت کا مزاج: ایک شخص نے کسی کے بارے میں کچھ شکایت کی بات کی، میں نے کہا کہ شکایت قاتلِ روحانیت ہے۔ شکایت اتنی زیادہ بری چیز ہے کہ آپ کو مطلقاً اس سے دور رہنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ شکایت سے مطلقاً کیسے بچا جا سکتا ہے؟ کیونکہ شکایت کے اسباب اس دنیا میں ہمیشہ پیش آتے رہتے ہیں۔
میں نے کہا کہ یہی تو آپ کا امتحان ہے، کہ آپ شکایت کے باوجود بے شکایت بن کر اس دنیا میں رہیں۔ منفی تجربات کے باوجود آپ مثبت نفسیات میں جینا سیکھیں۔ یہی اس دنیا میں انسان کا امتحانی پرچہ، یعنی ٹیسٹ پیپر ہے۔ ہر ایک کو اس امتحان سے گزرنا ہے۔
اس امتحان میں کامیاب ہونے والا ہی کامیاب ہے، اور اس امتحان میں ناکام ہونے والا ہی ناکام۔ مزید یہ کہ یہ ناکامی بھی ابدی ہے، اور یہ کامیابی بھی ابدی۔ شکایت کوئی سادہ چیز نہیں۔ شکایت کے ساتھ ناشکری جڑی ہوئی ہے۔
جس دل میں شکایت ہوگی، وہ شکر کے جذبات سے محروم ہو جائے گا۔ مزید یہ کہ شکایت گندگی کے مانند ہے۔ گندگی کی ایک بوند پانی کے پورے ٹب کو گندا کر دیتی ہے۔ اسی طرح شکایت کی تھوڑی مقدار بھی شکر کی نفسیات سے آدمی کو محروم کر دیتی ہے۔
آدمی کو چاہیے کہ وہ اس معاملے میں اتنا زیادہ حساس ہو کہ وہ کسی بھی حال میں شکر کا ایروژن گوارا نہ کر سکے۔ وہ شکایت کی باتوں کو نظر انداز کرتا رہے، تاکہ اس کے شاکرانہ مزاج میں کوئی کمی نہ آنے پائے۔ اس مہلک برائی سے بچنے کا طریقہ صرف ایک ہے، اور وہ ہے آغاز ہی میں اس کا خاتمہ کر دینا۔ تھوڑی سی شکایت کو بھی اتنا گھٹائیے، اتنا گھٹائیے کہ اس کو زیرو کے درجے تک پہنچا دیجیے۔
اور شکر کی تھوڑی سی بات کو بھی اتنا بڑھائیے، اتنا بڑھائیے کہ اس کو 7 فیصد تک پہنچا دیجیے۔ یہی واحد تدبیر ہے جس کے ذریعے آپ اپنی شخصیت کو ایسا بنا سکتے ہیں کہ آپ کے اندر صرف شکر ہی شکر ہو۔ ناشکری کا ایک ذرہ بھی آپ کی شخصیت کے اندر باقی نہ رہے۔ شکر کے احساس میں جینے والوں کے لیے ابدی جنت ہے، اور ناشکری کے احساس میں جینے والوں کے لیے ابدی جہنم۔
کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 268۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.