اللہ اکبر کے سپرٹ کو اسلام کے سپرٹ کو ایک لفظ میں اللہ اکبر سپرٹ کہہ سکتے ہیں؟ اسلام کی سب سے بڑی عبادت نماز ہے، جو رات دن میں 5 بار ادا کی جاتی ہے۔ نوافل کی صورت میں جو نمازیں پڑھی جاتی ہیں، وہ ان کے علاوہ ہیں۔ ان نمازوں میں اور اذان و اقامت میں اللہ اکبر کا لفظ روزانہ تقریباً 300 بار دہرایا جاتا ہے۔
اللہ اکبر کا مطلب ہے: اللہ بڑا ہے۔ اس میں اپنے آپ یہ بات شامل، یعنی implicit ہے کہ میں بڑا نہیں ہوں۔ اس طرح ہر صاحبِ ایمان روزانہ بار بار اس بات کو اپنے ذہن میں تازہ کرتا ہے کہ بڑائی صرف ایک خدا کے لیے ہے، میرے لیے کوئی بڑائی نہیں۔ باجماعت نماز اسی حقیقت کا ایک عملی مظاہرہ ہے۔
باجماعت نماز میں یہ ہوتا ہے کہ تمام اہلِ ایمان اپنے درمیان سے ایک شخص کو آگے بڑھا کر سب اس کے پیچھے کھڑے ہو جاتے ہیں۔ یہ اللہ اکبر سپرٹ کے اظہار کی ایک اجتماعی صورت ہے۔ اللہ اکبر کا مقصد دراصل آدمی کے اندر تواضع، یعنی modesty کی سپرٹ پیدا کرنا ہے۔ تواضع کی سپرٹ حقیقی معنوں میں جب آدمی کے اندر پیدا ہو جاتی ہے تو وہ کسی حد پر نہیں رکتی۔
یہ سپرٹ جس طرح خدا کے سامنے ظاہر ہوتی ہے، اسی طرح وہ انسان کے مقابلے میں بھی ظاہر ہوتی ہے۔ اہلِ ایمان کی پہچان یہ ہے کہ اللہ اکبر کی سپرٹ، یا تواضع کی سپرٹ، ان کی عملی زندگی میں پوری طرح شامل ہو جائے۔ اللہ اکبر کی سپرٹ والے لوگ کبھی انانیت اور کبر کا مظاہرہ نہیں کریں گے۔ وہ ہرگز وہ کام نہیں کریں گے جس کو "ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ بنانا" کہا جاتا ہے۔
دوسروں کی ماتحتی قبول کرنا ان کو ایک عبادتی فعل معلوم ہوگا۔ ان کی روح کو خود جھکنے میں خوشی ہوگی، نہ کہ دوسروں کو اپنے آگے جھکانے میں۔ وہ اپنی غلطی کا فوراً اعتراف کر لیں گے۔ وہ قیادت کے شوق سے آخری حد تک خالی ہوں گے۔
کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 267۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.