اسلام کیا ہے؟ اسلام کے لفظی معنی ہیں "سب مشن"، یعنی submission to God۔ سب مشن دراصل انسان کی طرف سے خدا کے لیے اس فطری رسپانس کا نام ہے جو خدا کی معرفت کے بعد انسان کے اندر پیدا ہوتا ہے۔ اسی "سبمشن" سے وہ زندگی بنتی ہے جس کو اسلامی زندگی کہا جاتا ہے۔
خدا کی معرفت کیا ہے؟ خدا کی معرفت اس ہستی کی معرفت ہے جس نے انسان کو پیدا کیا، جس نے انسان کو ایک ایسی شخصیت عطا کی جیسی شخصیت وسیع کائنات میں کسی اور کو عطا نہیں ہوئی۔ جس نے انسان کے لیے وسیع کائنات میں زمین جیسا استثنائی کرہ بنایا۔ جس نے ہماری دنیا میں وہ انوکھا سسٹم قائم کیا جس کو لائف سپورٹ سسٹم کہا جاتا ہے۔
اس کی یہ دریافت یہیں تک نہیں رکتی، بلکہ وہ دریافتوں کے ایک پروسیس کی صورت میں اس کی زندگی میں شامل ہو جاتی ہے۔ اب وہ خدا کے ساتھ اپنے تعلق کو دریافت کرتا ہے۔ وہ اس حقیقت کو دریافت کرتا ہے۔ وہ اس حقیقت کو دریافت کرتا ہے کہ میں آزاد نہیں ہوں، بلکہ میں خدا کے حکم کے ماتحت ہوں۔
دریافت کا یہ پروسیس آگے بڑھتا ہے۔ وہ اس کو بتاتا ہے کہ وہ آزاد نہیں ہے، بلکہ وہ خدا کے سامنے جواب دہ، یعنی accountable ہے۔ موت اس کی زندگی کا خاتمہ نہیں ہے، بلکہ موت کے بعد ایک اور زندگی شروع ہوتی ہے جہاں وہ خدا کے سامنے حاضر ہو جاتا ہے، تاکہ خدا اس کے ابدی مستقبل کے بارے میں اپنے آخری فیصلے کا اعلان کرے۔ یہ پروسیس جاری رہتا ہے یہاں تک کہ وہ دریافت کرتا ہے کہ زندگی کا خاتمہ یا تو ابدی جنت کی صورت میں ہونے والا ہے یا ابدی جہنم کی صورت میں۔
یہ دریافت اس کو بے حد سنجیدہ بنا دیتی ہے۔ اب وہ اپنی زندگی کی نئی منصوبہ بندی کرتا ہے۔ اب وہ ہر چیز کو ری ڈیفائن کرتا ہے۔ پہلے اگر اس کی سرگرمیاں خود رخی، یعنی self-oriented تھیں، تو اب اس کی تمام سرگرمیاں خدا رخی، یعنی God-oriented بن جاتی ہیں۔
اسی طرزِ حیات کا نام اسلام ہے۔ کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 261۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.