Maulana Wahiduddin Khan
3 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Ek sangeen mughaalata.

Urdu · 3 min

ایک سنگین مغالطہ: لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ اپنے دنیاوی معاملات میں خوب عقل لگاتے ہیں، زیادہ سے زیادہ سوچتے ہیں، ہر پہلو اسے سمجھ کر منصوبہ بندی یعنی پلاننگ کرتے ہیں۔ لیکن دین کے معاملے میں ان کا طریقہ بالکل مختلف ہوتا ہے۔ یہاں وہ سمجھتے ہیں کہ کسی حضرت کی دعا لے لو، کسی درگاہ میں چلے جاؤ، کسی بزرگ کی زیارت کر لو، تسبیح کے دانے پر کچھ الفاظ پڑھ لو، کچھ رسمی اعمال یعنی ریچولز کو دہرا لو، اور پھر تمام دینی معاملات خود بخود درست ہو جائیں گے۔ مگر یہ دو طرفہ طریقہ سرتاسر بے بنیاد ہے۔

اس طریقے کا کوئی فائدہ کسی کو ملنے والا نہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ آدمی جس طرح دنیا کے معاملات میں اپنی عقل لگاتا ہے، اسی طرح اس کو دین کے معاملے میں بھی اپنی عقل لگانا ہوگا۔ دین کے معاملے میں بھی اس کو اپنے شعور کی پوری طاقت استعمال کرنا ہوگا۔ اس کے بغیر نہ کوئی شخص حقیقی معنوں میں دین دار ہو سکتا ہے، اور نہ وہ جنت کا مستحق بن سکتا ہے۔

دین دار بننے کا عمل پورے معنوں میں ایک شعوری عمل ہے۔ ہر عورت اور مرد کے لیے لازم ہے کہ وہ شعوری سطح پر دین کو دریافت کرے۔ وہ دین داری کو شعوری دین داری بنائے، نہ کہ رسمی دین داری۔ وہ دین کو پورے معنوں میں اپنے دل و دماغ کا حصہ بنائے۔

وہ اپنی دینی زندگی کو بھی اسی طرح ایک باشعور زندگی بنائے، جس طرح وہ اپنی دنیا کی زندگی کو ایک باشعور زندگی بنائے ہوئے ہے۔ اس معاملے میں کسی بھی شخص کا کوئی استثنا نہیں۔ خدا نے انسان کو جو سب سے بڑی چیز دی ہے، وہ اس کا عقل و شعور ہے۔ جو لوگ عقل و شعور کی برتر سطح پر دین کو نہ پائیں، اور دین کو اختیار نہ کریں، وہ خدا کے یہاں بے دین قرار پائیں گے۔

خواہ رسمی سطح پر بظاہر وہ دین دار کیوں نہ بنے ہوئے ہوں۔ دین داری ایک شعوری عمل ہے، نہ کہ صرف ایک رسمی عمل۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 262۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.