Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Aqli ilm,Daakhili marifat.

Urdu · 4 min

عقلی علم، داخلی معرفت۔ کسی چیز کو جاننے کے دو درجے ہیں: ایک ہے عقلی علم، یعنی ریشنل نالج، اور دوسرا ہے داخلی معرفت، یعنی انر ریلائزیشن۔ عقلی علم صرف ابتدائی علم ہے؛ اعلیٰ علم یہ ہے کہ آدمی کو داخلی بصیرت کی سطح پر حقیقت کا یقین حاصل ہو جائے۔ مثلاً اپنے ایک پڑوسی کے بارے میں آپ کی واقفیت صرف عقلی علم کی سطح پر ہوتی ہے، لیکن اپنی ماں کے بارے میں آپ کی واقفیت اس سے آگے بڑھ کر یقین، یعنی کنوکشن، کی سطح پر ہوتی ہے۔

عقل اور منطق کے استعمال کے بغیر ہی آدمی کامل یقین کے درجے میں، کسی ادنیٰ شبہ کے بغیر، یہ جان لیتا ہے کہ فلاں خاتون میری ماں ہے۔ یہی معاملہ خدا کے بارے میں ہے، جو انسان کا خالق اور مالک ہے۔ خدا کی ابتدائی دریافت انسان کو عقل کی سطح پر ہوتی ہے، لیکن یہ دریافت ترقی کرتی رہتی ہے، یہاں تک کہ آدمی اس یقین کے درجے پر پہنچ جاتا ہے جبکہ وہ اپنی داخلی بصیرت، یعنی انر پرسیپشن، کے ذریعے کسی شک و شبہ کے بغیر یقین کر لیتا ہے کہ خدا موجود ہے۔ ٹھیک اسی طرح جس طرح میں خود موجود ہوں۔

یہی معاملہ خدا سے تعلق رکھنے والی تمام سچائیوں، یعنی ٹروتھس، کا ہے؛ مثلاً قرآن اور رسول کا کلام وغیرہ۔ ان متعلق سچائیوں کے بارے میں ابتدائی علم کسی آدمی کو عقلی غور و فکر کے ذریعے حاصل ہوتا ہے، لیکن یہ معرفتِ حق کا ابتدائی درجہ ہے۔ معرفتِ حق کا اعلیٰ درجہ یہ ہے کہ آدمی کو ان حقیقتوں پر اس طرح کامل یقین ہو جائے کہ اس کی داخلی بصیرت، یعنی پرسیپشن، ہی ان کی واقعیت پر بلا شک و شبہ اعتراف کے لیے کافی ہو جائے۔ اس معاملے میں علم کے دو درجے ہیں: عقلی علم اور ملکوتی علم۔

عقلی علم خارجی معلومات، یعنی ڈیٹے، پر مبنی ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں ملکوتی علم حقیقت کے علم کا وہ درجہ ہے جبکہ انسان خود اپنی داخلی بصیرت کی بنیاد پر یقین کے اس مقام تک پہنچ جائے جہاں وہ خارجی معلومات، یعنی ڈیٹا، کا محتاج نہ رہے۔ اس کا اپنا داخلی احساس ہی اس کے لیے کامل یقین کا ذریعہ بن جائے، یعنی علم کا وہ درجہ جو ہر انسان کو اپنی ماں پر یقین کرنے کے لیے حاصل ہوتا ہے۔ کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 260۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.