حرص کا روحانی نقصان: آدمی کی سب سے بڑی کمزوری حرص ہے۔ اس بنا پر ہر شخص کا یہ حال ہے کہ وہ ملے ہوئے کو کافی نہیں سمجھتا۔ ہر ایک اور زیادہ، اور زیادہ کی طلب میں مبتلا رہتا ہے۔ یہ نفسیات ایک تباہ کن نفسیات ہے۔
اس کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ آدمی اعلیٰ دعا کی توفیق سے محروم ہو جاتا ہے۔ اگر آدمی شکر کی نفسیات میں جیے، یعنی اس کا احساس یہ ہو کہ دنیا میں زندگی گزارنے کے لیے جو کچھ مطلوب تھا وہ خدا نے اس کو دے دیا، اگر آدمی اس احساس میں جی رہا ہو تو یہ احساس اس کے لیے ایک اعلیٰ دعا کا پوائنٹ آف ریفرنس بن جائے گا۔ اس کے دل کی گہرائیوں سے یہ الفاظ نکلیں گے کہ خدایا دنیا میں تو نے میرے ساتھ وَأَتَيكُم مِّن كُلِّ مَا سَأَلْتُمُ سورہ نمبر 14 آیت 31 کا معاملہ فرمایا۔ اب آخرت میں تو میرے ساتھ وہ معاملہ فرما جس کا تو نے اپنی کتاب میں اس طرح بیان فرمایا ہے: وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَشْتَهِي أَنْفُسُكُمْ وَلَكُمْ فِيهَا مَا تَدَّعُونَ سورہ نمبر 41 آیت 31۔
پوائنٹ آف ریفرنس کے ساتھ جو دعا کی جائے وہ ایک اعلیٰ دعا ہوتی ہے۔ ایسی دعا ایک گہرے احساس کے تحت نکلتی ہے۔ ایسی دعا ہمیشہ کسی تیار ذہن، یعنی پریپیڈ مائنڈ کا نتیجہ ہوتی ہے۔ ایسی دعا آدمی کے پورے وجود کی نمائندہ ہوتی ہے۔
ایسی دعا میں الفاظ کی حیثیت محض ثانوی ہوتی ہے، اور اصل حیثیت ان داخلی کیفیات کی ہوتی ہے جو آدمی کے دل و دماغ کو بے چین کر دینے والی ہوں۔ ایسی دعا اس وقت نکلتی ہے جبکہ خدا اور بندے کے درمیان اتنی قربت ہو جائے کہ کوئی درمیانی فاصلہ باقی نہ رہے۔ ایسی دعا میں الفاظ محض علامتی، یعنی سمبولک ہوتے ہیں۔ اصل دعا وہ ہوتی ہے جس کو صرف فرشتے سنتے ہیں، اور اس کو بلا تاخیر رب العالمین تک پہنچا دیتے ہیں۔
حرصِ دنیا کی یہ نفسیات اس قسم کی اعلیٰ دعا کے لیے قاتل کی حیثیت رکھتی ہے۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 259۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.