ایمان ایک زلزلہ خیز عقیدہ ہے۔ آپ اپنے گھر میں، اپنے بچے کے ساتھ ہیں، اتنے میں زمین سے گڑگڑاہٹ کی آواز سنائی دی۔ دیواریں اور چھتیں ہلنے لگیں، کھڑکیاں زور زور سے کھلنے اور بند ہونے لگیں۔ بچہ پوچھتا ہے کہ "ابّا، یہ کیا چیز ہے؟
" آپ اس کو جواب دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ یہ بھونچال ہے۔ غور کیجیے کہ اس طوفان خیز لمحے میں آپ کا یہ کہنا کہ یہ بھونچال ہے، کیا صرف چند الفاظ کا مجموعہ ہوگا؟ آپ یہ جملہ بول کر بھی سکون کے ساتھ اپنے گھر میں بیٹھے رہیں گے؟ یقیناً ایسا نہیں ہو سکتا۔
یہ "بھونچال ہے" کا جملہ بظاہر ایک لفظی جملہ ہے، مگر وہ ایک عظیم واقعے کا اعلان ہے۔ وہ ایسا جملہ ہے جس کو زبان سے ادا کرتے ہی آدمی کے اوپر کپکپی طاری ہو جائے۔ یہ "بھونچال ہے" کا لفظ بولتے ہی خود آپ کے اندر بھی ایک بھونچال آ جائے۔ یہ "بھونچال ہے" کا لفظ بولتے ہی خود آپ کے اندر بھی ایک بھونچال آ جائے گا۔
آپ کی پوری شخصیت ہل جائے گی، سر سے پیر تک آپ کا پورا وجود ایک نیا وجود بن جائے گا۔ اس کے بعد آپ ایک ایسے انسان بن جائیں گے جو آپ اس سے پہلے نہیں تھے۔ اسی طرح آپ اپنے دوست کے ساتھ ایک جنگل میں چل رہے ہیں، اچانک آپ دیکھتے ہیں کہ پاس کی جھاڑیوں میں ایک خوفناک شیر کھڑا ہوا ہے۔ آپ اپنے دوست سے کہتے ہیں کہ یہ ایک شیر ہے۔
یہ جملہ بھی اس وقت محض ایک لفظی کلمہ نہیں ہوگا، بلکہ وہ ایک طوفان خیز تجربہ ہوگا۔ آپ کے جسم میں خون کی گردش خون کا طوفان یعنی بلڈ اسٹارم بن جائے گی۔ یہ ایک ایسا لمحہ ہوگا جو آپ کو اندر سے باہر تک ایک نیا انسان بنا دے گا۔ اس مثال سے سمجھا جا سکتا ہے کہ جب ایک انسان کہتا ہے کہ "لا الہ الا اللہ" تو اس کا مطلب کیا ہے؟
یہ محض چند الفاظ کو اپنی زبان سے دہرانا نہیں ہے، بلکہ یہ اس خدا کی موجودگی اور کارفرمائی کا اقرار کرنا ہے۔ جو شیر کا اور بھونچال کا اور ہر چیز کا خالق ہے۔ کیسی عجیب بات ہوگی اگر شیر اور زلزلے کی موجودگی کا اقرار آدمی کے اندر طوفان برپا کر دے، اور خداوند ذوالجلال کی موجودگی کا اقرار آدمی کے اندر کوئی ہلچل برپا نہ کرے۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 250۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.