خدا کا وجود۔ پچھلے تقریباً 500 سال سے کائنات کا سائنسی مطالعہ جاری ہے۔ اس مطالعے میں بڑے بڑے دماغ شامل رہے ہیں۔ آخری بات، جہاں یہ سائنسی مطالعہ پہنچا ہے، وہ یہ ہے کہ کائنات اتنی زیادہ وسیع ہے کہ انسان کے لیے اس کو اپنے احاطے میں لانا بظاہر ناممکن ہے۔
تازہ ترین سائنسی تحقیق کے مطابق، انسان کا علم بمشکل کائنات کے صرف 5% حصے تک پہنچا ہے۔ اس 5% حصے کے معاملے میں بھی انسانی علم کی محدودیت کا یہ عالم ہے کہ ایک سائنسدان نے کہا کہ ہم جتنا دریافت کر پاتے ہیں، اس سے صرف یہ معلوم ہوتا ہے کہ دریافت شدہ چیزیں بھی ابھی تک غیر دریافت شدہ چیزوں کی حیثیت رکھتی ہیں۔ ہمارا حال یہ ہے کہ ہم کم سے کم کے بارے میں زیادہ سے زیادہ جان رہے ہیں۔ We are knowing more and more about less and less.
خدا کے بارے میں جاننا، خالق یعنی Creator کے بارے میں جاننا ہے۔ مگر تجربہ بتاتا ہے کہ ابھی تک انسان خالق کی تخلیق یعنی Creation کے بارے میں بھی صرف چند فیصد جان سکا ہے۔ ایسی حالت میں کسی انسان کا یہ مطالبہ کرنا کہ خالق کے بارے میں ہم کو قطعی معلومات دو، سرتاسر ایک غیر علمی مطالبے کی حیثیت رکھتا ہے۔ جب انسان کا حال یہ ہے کہ وہ ابھی تک تخلیق کے بارے میں پورا علم حاصل نہ کر سکا، تو وہ خالق کے بارے میں پورا علم کیسے حاصل کر سکتا ہے؟
تخلیق کا وجود زمان و مکان یعنی space and time کے اندر ہے، اور خالق کا وجود ماورائے زمان و مکان یعنی beyond space and time سے تعلق رکھتا ہے۔ پھر جو انسان اتنا محدود ہو کہ وہ زمان و مکان کے اندر کی چیزوں کا بھی احاطہ نہ کر سکے، وہ زمان و مکان کے باہر کی حقیقت کو اپنے احاطے میں کس طرح لا سکتا ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ اس دنیا میں انسان خدا کو صرف عجز کی سطح پر دریافت کر سکتا ہے، نہ کہ علم کی سطح پر۔ کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 251۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.