متوقع اعتراف کی قیمت: ایک شخص اگر چاند کے اوپر پیدا ہو، یا وہ پیدا ہونے کے بعد اپنے آپ کو زمین کے سوا کسی اور سیارے پر پائے، تو یہ اس کے لیے ایک بے حد سنگین تجربہ ہوگا۔ وہ دیکھے گا کہ چاند پر، یا دوسرے سیارے پر، ان چیزوں میں سے کوئی چیز موجود نہیں جو انسان جیسی مخلوق کے زندہ رہنے کے لیے درکار ہے۔ اس معاملے کی ایک مثال اس مچھلی میں نظر آتی ہے جو پانی کے باہر خشک زمین پر تڑپ رہی ہو۔ اس کے برعکس، آدمی جب زمین پر پیدا ہوتا ہے تو اچانک وہ پاتا ہے کہ یہاں وہ تمام چیزیں وافر مقدار میں موجود ہیں جو اس کے زندہ رہنے کے لیے درکار ہیں، مثلاً روشنی، پانی، ہوا، غذا وغیرہ۔
ایسا کیوں ہے کہ انسان کے لیے زمین پر تمام موافق اسبابِ حیات پیشگی طور پر موجود ہیں؟ یہ دراصل متوقع اعتراف کی قیمت ہے، جو پیشگی طور پر اس کے لیے سیارۂ ارض پر مہیا کر دی گئی ہے۔ کائنات میں بہت سی چیزیں ہیں، مثلاً ستارہ، سیارہ، سمندر، پہاڑ وغیرہ۔ یہ تمام چیزیں خدا کی مخلوق ہیں، وہ سب کی سب خدا کی خدائی کا اعتراف کر رہی ہیں، لیکن ان کا اعتراف مجبورانہ اعتراف ہے، نہ کہ اختیارانہ اعتراف۔
انسان کو خدا نے استثنائی طور پر آزاد مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ اپنے خالق کا اختیارانہ اعتراف کرے۔ وہ سیارۂ ارض یعنی پلانٹ ارتھ پر کھڑا ہو کر یہ کہہ سکے کہ خدایا، میں نے دیکھے بغیر تیرے وجود کو مانا۔ خدایا، میں نے کسی مجبوری کے بغیر تیرے آگے سرنڈر کیا۔
خدایا، میں نے تیری قدرت کے ظہور سے پہلے تیری قدرت کے مقابلے میں اپنے عجز کا اعتراف کیا۔ انسان کا یہی وہ متوقع اعتراف ہے جس کی پیشگی قیمت کے طور پر زمین کی تمام نعمتیں اس کے لیے فراہم کی گئی ہیں۔ جو لوگ اس اعتراف کا ثبوت دیں گے، ان کے لیے یہ نعمتیں مزید اضافے کے ساتھ جاری رہیں گی، اور جو لوگ اس اعتراف میں ناکام رہیں، وہ ہمیشہ کے لیے ان نعمتوں سے محروم کر دیے جائیں گے۔ کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 249۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.