← Kitaab-e-MarifatKitaab-e-Marifat
Irteqa ke teen darjey
Urdu · 14 min
ارتقاء کے تین درجے: ایک روایت حدیث کی مختلف کتابوں میں آئی ہے، مسند امام احمد کے الفاظ یہ ہیں۔ حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں کہ پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: «الناس معادن كمعادن الفضة والذهب، خيارهم في الجاهلية خيارهم في الإسلام إذا فقهوا». مسند احمد جلد 2، صفحہ 539۔ یعنی انسان دھات کی مانند ہے، جیسے سونے اور چاندی کی دھات۔
جاہلیت میں جو بہتر ہیں وہی اسلام میں بھی بہتر ہیں، جبکہ وہ اپنے اندر سمجھ پیدا کریں۔ اس حدیث میں انسان کے فکری ارتقاء کے مراحل کو بتایا گیا ہے۔ ایک درجہ فکری وہ ہے جس پر انسان پیدا ہوتا ہے، دوسرا درجہ فکری وہ ہے جو انسان خود اپنی کوششوں سے بناتا ہے، تیسرا درجہ معرفت کا درجہ ہے۔ معرفت کے درجے میں پہنچ کر انسان اپنے ارتقاء کی آخری منزل کو پا لیتا ہے، یعنی وہ درجہ جس کا دوسرا نام اسلام ہے۔
اس اعتبار سے انسان کی مثال دھات یعنی میٹل جیسی ہے: لوہا زمین سے نکلتا ہے، ابتدائی حالت میں وہ خام لوہا یعنی اور ہوتا ہے۔ ابتدائی حالت میں وہ خام لوہا یعنی اور ہوتا ہے، اس کے بعد اس کو پگھلا کر صاف کیا جاتا ہے۔ اب وہ ترقی پا کر اسٹیل بن جاتا ہے۔ اس کے بعد وہ مزید صنعتی مراحل سے گزرتا ہے، یہاں تک کہ وہ باقاعدہ مشین کی صورت اختیار کر لیتا ہے۔
یعنی پہلے مرحلے میں خام لوہا، دوسرے مرحلے میں اسٹیل، اور تیسرے اور آخری مرحلے میں مشین۔ یہی معاملہ انسان کا ہے۔ انسان جب پیدا ہوتا ہے تو گویا کہ وہ فطرت کی کان یعنی مائن سے نکل کر باہر کی دنیا میں آتا ہے۔ اس کے بعد وہ بڑا ہوتا ہے اور اپنی سوچ کو عمل میں لاتا ہے۔
وہ تعلیم و تربیت کے مراحل سے گزرتا ہے۔ اس طرح پختگی کی عمر میں پہنچ کر وہ ایک باقاعدہ انسان بن جاتا ہے۔ یہ انسانی وجود کا درمیانی مرحلہ ہے۔ اس کے بعد اگر وہ اپنی عقل کو صحیح رخ پر استعمال کرے تو وہ معرفتِ حق کے درجے میں پہنچ جاتا ہے۔
یہ وہ درجہ ہے جبکہ کوئی پیدا ہونے والا کمالِ انسانیت کے مرحلے میں پہنچ کر عارف باللہ کا مقام حاصل کر لیتا ہے۔ ان تین ارتقائی مراحل کو حسبِ ذیل صورت میں بیان کیا جا سکتا ہے: 1) پیدائشی شخصیت یعنی بورن پرسنیلٹی، 2) تیار شدہ شخصیت یعنی ڈیولپڈ پرسنیلٹی، 3) عارفانہ شخصیت یعنی ریالائزڈ پرسنیلٹی۔ پیدائشی شخصیت خدا کی دی ہوئی شخصیت ہوتی ہے۔ پیدائشی شخصیت کے اعتبار سے ہر آدمی یکساں ہوتا ہے۔
صلاحیت کے اعتبار سے اگرچہ ایک انسان اور دوسرے انسان میں ہمیشہ فرق ہوتا ہے، لیکن اس فطری فرق کے باوجود تمام انسان امکانی استعداد یعنی پوٹینشل کیپیسٹی کے اعتبار سے یکساں حیثیت کے مالک ہوتے ہیں۔ اسی بات کو ایک حدیث میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: «المؤمن القوي خيرٌ وأحبُّ إلى الله من المؤمن الضعيف، وفي كلٍّ خيرٌ». «أحرص على ما ينفعك، واستعن بالله ولا تعجز». «وإن أصابك شيءٌ فلا تقل: لو أني فعلتُ كان كذا وكذا».
«ولكن قل: قدر الله وما شاء فعل، فإن اللوح تفتح عمل الشيطان». صحیح مسلم، رقم الحدیث 6945۔ یعنی قوی مومن اللہ کے نزدیک ضعیف مومن سے زیادہ بہتر اور پسندیدہ ہے، اور ہر ایک میں خیر ہے۔ جو چیز تمہارے لیے نافع ہو اس کے تم حریص بنو، اور اللہ سے مدد چاہو، اور عاجز نہ ہو۔
اور اگر تمہارے خلاف کوئی بات پیش آئے تو یہ نہ کہو کہ کاش میں نے ایسا اور ایسا کیا ہوتا، بلکہ یہ کہو کہ یہ خدا کا تقدیری منصوبہ تھا، اسی نے جو چاہا کیا۔ کیونکہ "اگر" کہنا شیطان کے عمل کا دروازہ کھولتا ہے۔ اس حدیث میں مومن سے مراد انسان ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ کوئی انسان اگر اپنے اندر ایک اعتبار سے کمی محسوس کرے تو اس کو مایوس نہیں ہونا چاہیے، کیونکہ دوسرے اعتبار سے اس کے اندر کوئی اور صفت زیادہ ہوگی۔
انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی خداداد صلاحیت کو دریافت کرے، اور حوصلہ مندانہ انداز میں اپنی زندگی کی تعمیر کرے۔ جدوجہدِ حیات کے دوران اگر اس کو کوئی نقصان پہنچے تو اس کو یقین کرنا چاہیے کہ اس منفی تجربے میں بھی کوئی مثبت فائدہ شامل ہوگا۔ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنے ہر منفی تجربے سے مثبت سبق لے۔ وہ کسی بھی حال میں پست ہمتی کا شکار نہ ہو۔
اس طرح آدمی اپنی شخصیت کی تعمیر کرتا رہتا ہے۔ وہ اپنا محاسبہ کر کے اپنی کنڈیشننگ کو دور کرتا رہتا ہے۔ وہ اپنے شعور کو بیدار کر کے اپنے اندر ایسی شخصیت کی پرورش کرتا رہتا ہے جس کے اندر قبولِ حق کی صلاحیت موجود ہو۔ جس کے اندر وہ صلاحیت ہو جس کو پیغمبر کی ایک دعا میں اس طرح بیان کیا گیا ہے: «اللهم أرنا الحق حقًا وارزقنا اتباعه، وأرنا الباطل باطلًا وارزقنا اجتنابه، وأرنا الأشياء كما هي» یعنی اے اللہ!
تو مجھے حق کو حق کے روپ میں دکھا، اور اس کی پیروی کی توفیق دے۔ اور اے اللہ! تو مجھے باطل کو باطل کے روپ میں دکھا، اور تو مجھے اس سے بچنے کی توفیق عطا فرما۔ اور اے اللہ!
تو مجھے چیزوں کو ویسا ہی دکھا جیسا کہ وہ ہیں۔ یہی وہ انسان ہے جس کو ہم نے اوپر کی تقسیم میں تیار شدہ شخصیت یعنی ڈیولپڈ پرسنیلٹی کا نام دیا ہے۔ وہی آدمی دانشمند آدمی ہے جو اپنے اندر اس قسم کی شخصیت کی تعمیر کرے۔ جہاں تک فطری وجود کی بات ہے، ہر انسان کو فطری وجود کا عطیہ خالق کی طرف سے یکساں طور پر ملتا ہے، لیکن اس کے بعد اپنے آپ کو ایک تیار شدہ شخصیت بنانا یہ ہر انسان کا خود اپنا عمل ہے۔
ٹھیک اسی طرح جیسے خام لوہا فطرت کی طرف سے عطا کیا جاتا ہے، لیکن اس خام لوہے کو اسٹیل اور مشین میں تبدیل کرنے کا عمل انسانی کارخانے میں انجام پاتا ہے۔ اسی خود تیاری یعنی سیلف پریپریشن کے عمل پر اگلے ارتقائی مرحلے کا انحصار ہے۔ جو لوگ خود شناس بنیں، جو لوگ اپنا بے لاگ محاسبہ کرتے رہیں، جو لوگ اپنی کمیوں کو ڈھونڈ کر اپنی ڈی کنڈیشننگ کریں، جو لوگ ہر قیمت کو ادا کرتے ہوئے اپنے خام لوہے کو اسٹیل بنانے کا کام کریں، جن لوگوں کا یہ حال ہو کہ وہ انانیت اور کبر اور لالچ اور حسد اور غصہ اور انتقام جیسے منفی جذبات کا کبھی شکار نہ بنیں، جو کہ شخصیت کی تعمیر میں ایک مہلک رکاوٹ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ خلاصہ یہ کہ جو لوگ مسلسل طور پر اپنے اوپر تزکیے کا عمل جاری کیے ہوئے ہوں، وہی لوگ ہیں جو خدا کی توفیق سے حق کو دریافت کرتے ہیں اور اس کو پوری آمادگی کے ساتھ قبول کر لیتے ہیں۔
تزکیے کے لفظی معنی ہیں پاک کرنا، پیوریفیکیشن۔ یہ ہر آدمی کی لازمی ضرورت ہے۔ یہ ہر آدمی کا مسئلہ ہے کہ وہ اپنے ماحول سے اثر قبول کرتا رہتا ہے، جس کو کنڈیشننگ کہا جاتا ہے۔ اپنے جذبات اور خواہشات کے تحت اس کی کچھ عادتیں بن جاتی ہیں۔
اپنے مفادات اور مصالح کے زیر اثر، شعوری یا غیر شعوری طور پر، اس کا اپنا ایک مزاج بن جاتا ہے۔ یہ تمام چیزیں آدمی کی روحانی ترقی میں رکاوٹ ہیں۔ ان رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے آدمی کو خود اپنا نگراں یعنی گارڈ بننا پڑتا ہے۔ وہ ڈھونڈ ڈھونڈ کر اپنی غلطیوں کو نکالتا ہے۔
وہ ایک بے رحمانہ اصلاح یعنی مرسیلیس ڈی کنڈیشننگ کا عمل اپنے اوپر جاری کرتا ہے۔ یہ تزکیے کی لازمی شرط ہے۔ اس کے بغیر کسی کا حقیقی تزکیہ نہیں ہو سکتا۔ بے رحمانہ ذاتی اصلاح کے بغیر تزکیہ نہیں، اور تزکیے کے بغیر جنت نہیں۔
جو لوگ اپنے آپ کو مذکورہ مراحل سے گزاریں اور اپنی تیاری کے نتیجے میں سچائی کو پا لیں، انہی کو قرآن میں النفس المطمئنہ سورہ نمبر 89 آیت 27 کہا گیا ہے۔ یہ وہ لوگ ہیں جو خدا کے تخلیقی نقشے پر راضی ہوئے، جنہوں نے اپنے آپ کو اس نقشے پر ڈھال کر اپنے اندر مطلوب شخصیت کی تعمیر کی۔ یہی وہ لوگ ہیں جو خدا کی رضامندی پائیں گے، اور خدا کے فضل سے جنت کے ابدی باغوں میں بسائے جائیں گے۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 240۔