انسان ایک استثنائی مخلوق ہے۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک ارشاد حدیث کی مختلف کتابوں میں آیا ہے۔ اس کے مطابق آپ نے فرمایا: خلق الله آدم على صورته. صحیح البخاری، رقم الحدیث 6227، صحیح مسلم، رقم الحدیث 7342۔
یعنی اللہ نے آدم کو اپنی صورت پر پیدا کیا۔ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ جسمانی شکل و صورت کے اعتبار سے انسان خدا کے مانند ہے۔ یہاں "صورت" سے مراد صفات، یعنی attributes ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے انسان کو محدود طور پر وہ صفات عطا فرمائی ہیں جو اللہ کی ذات میں اپنے کمال درجے میں موجود ہیں۔
انسان پوری کائنات میں ایک استثنائی مخلوق ہے۔ انسان ایک زندہ وجود ہے۔ انسان وہ واحد مخلوق ہے جس کو ایک جامع شخصیت، یعنی personality، عطا ہوئی ہے۔ انسان سوچتا ہے، انسان دیکھتا ہے، انسان سنتا ہے، انسان منصوبہ بند عمل کرتا ہے۔
انسان اپنے حواسِ خمسہ کے ذریعے چیزوں سے enjoy کر سکتا ہے۔ اس قسم کی استثنائی خصوصیات ہیں جو پوری کائنات میں صرف انسان کا حصہ ہیں۔ انسان کو یہ استثنائی عطیات اس لیے دیے گئے ہیں کہ وہ استثنائی عمل کا ثبوت دے۔ یہ استثنائی عمل خالق کی شعوری معرفت ہے۔
اس طرح خداوندِ ذوالجلال نے انسان کو یہ موقع دیا ہے کہ وہ معرفت کے درجے میں خدا کو دریافت کرے۔ وہ غیب کی حالت میں خدا کو دیکھے۔ وہ اختیار رکھتے ہوئے اپنے آپ کو خدا کے آگے بے اختیار کر لے۔ مجبوری کے بغیر وہ اپنے آپ کو خدا کے آگے surrender کر دے۔
وہ اپنے شعور کو بیدار کر کے اپنا ذہنی ارتقاء کرے۔ وہ ذاتی دریافت کے درجے میں سچائی کو پائے۔ وہ سجدۂ معرفت کی سطح پر خدا کے آگے جھک جائے۔ وہ پورے عالمِ فطرت کو اپنی روحانی غذا بنا لے۔
وہ اپنی شخصیت کا ارتقاء اس طرح کرے کہ وہ خداوندِ ذوالجلال کے پڑوس میں جگہ پانے کا مستحق بن جائے۔ جو آدمی اپنے اندر اس قسم کی شخصیت، یعنی personality، نہ بنا سکے، وہ صرف انسان نما حیوان ہے۔ اس کی کوئی قیمت خدا کے یہاں نہیں۔ کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 239۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.