ایمان کا ذائقہ حدیث میں آیا ہے کہ "ذاق طعم الإيمان من رضي بالله ربا" صحیح مسلم، رقم الحدیث 160۔ یعنی ایمان کا ذائقہ چکھا اس شخص نے جو اللہ کو اپنا رب بنانے پر راضی ہو گیا۔ معلوم ہوا کہ ایمان ایک ذائقہ ہے، یہ ذائقے مختلف قسم کے ہوتے ہیں۔ خدا نے ہماری دنیا میں طرح طرح کے مادی پھل پیدا کیے، ہر پھل کا ذائقہ الگ الگ ہے۔
جو ذائقہ کھجور میں ہے وہ انجیر میں نہیں، جو ذائقہ انگور میں ہے وہ سیب میں نہیں، جو ذائقہ آم میں ہے وہ کیلے میں نہیں۔ اسی طرح ہر پھل کے الگ الگ ذائقے ہیں۔ جب آدمی کسی پھل کو کھاتا ہے تو وہ اس کے انفرادی ذائقے کو پاتا ہے۔ یہی معاملہ ایمانی ذائقوں کا بھی ہے۔
خدا نے اہل ایمان کے لیے ایک ذائقہ خوشی میں رکھا ہے، جو اس نے غم میں نہیں رکھا۔ ایک ایمانی ذائقہ محرومی میں ہے، جو یاف میں نہیں۔ ایک ایمانی ذائقہ تنگی میں ہے، جو اسودگی میں نہیں۔ ایک ایمانی ذائقہ بیماری میں ہے، جو صحت میں نہیں۔
ایک ایمانی ذائقہ مشکل میں ہے، وہ آسانی میں نہیں۔ ایک ایمانی ذائقہ مقتدی بننے میں ہے، وہ امام بننے میں نہیں۔ ایک ایمانی ذائقہ گمنامی میں ہے، وہ شہرت میں نہیں۔ ایک ایمانی ذائقہ بے اختیاری میں ہے، وہ اختیار میں نہیں۔
ایک ایمانی ذائقہ عجز میں ہے، وہ قدرت میں نہیں۔ وغیرہ۔ تاہم مختلف احوال میں مختلف ایمانی ذائقے ملنا اس پر منحصر ہے کہ آدمی کے اندر سچا ایمانی شور زندہ ہو۔ کوئی ذائقہ اپنے آپ نہیں ملتا، بلکہ وہ ایمان کی بیداری کی شرط کے ساتھ ملتا ہے۔
جس طرح مادی پھلوں کے ذائقے صرف اس آدمی کو ملتے ہیں جس کی زبان میں ذائقہ خانے یعنی taste buds زندہ ہوں، اسی طرح مختلف احوال میں چھپے ہوئے ایمانی ذائقے اسی آدمی کے حصے میں آتے ہیں جو اپنے ایمانی احساس کو پوری طرح زندہ کیے ہوئے ہو۔ جو لوگ اپنے ایمانی احساس کو زندہ رکھیں، انہی کے لیے ان کے احوال مختلف ایمانی ذائقوں کا تجربہ کرائیں گے۔ اس کے برعکس جو لوگ اپنے ایمانی احساس کو کند کر لیں، ان پر مختلف قسم کے حالات گزریں گے، مگر یہ حالات ان کے لیے ایمانی ذائقوں کا تجربہ نہیں بنیں گے۔ وہ ایمان کے گلستاں میں رہ کر بھی ایمان کی خوشبو سے محروم رہیں گے۔
کتاب معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 238۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.