آزمائش کیوں؟ جاء في الآثار أن العبد إذا دعا ربه وهو يحبه قال: "يا جبريل، لا تعجل بقضاء حاجة عبدي، فإني أحب أن أسمع صوته." جامع العلوم والحکم، رقم الحدیث 42۔ یعنی بندہ جب اپنے رب کو پکارتا ہے، اور وہ بندہ خدا کو محبوب ہوتا ہے، تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ: "اے جبریل، میرے بندے کی حاجت پوری کرنے میں جلدی نہ کر، مجھے محبوب ہے کہ میں اس بندے کی آواز کو سنوں۔ " اس روایت میں "صوت" یعنی voice کا لفظ سادہ طور پر صرف آواز کے معنی میں نہیں ہے، بلکہ وہ وسیع تر اعتبار سے کلام کے معنی میں ہے۔
یہ صوت اس مومن کے بارے میں ہے جو اللہ کے قانون کے مطابق آزمائش سے دوچار ہو۔ اس تجربے سے اس کا دل تڑپ اٹھے، اس کے ذہن میں ربانی افکار کا طوفان برپا ہو جائے۔ وہ اپنے عجز اور اللہ کی کبریائی کو دریافت کرے۔ اس کے نتیجے میں اس کی روح کے اندر ایک نیا طوفان برپا ہو جائے۔
ایسے موقع پر ایک مومن کی زبان سے جو کلمات نکلتے ہیں، وہ انوکھے کلمات ہوتے ہیں۔ وہ اللہ کی عظمت یعنی Glory of God کی نئی دریافت کے ہم معنی ہوتے ہیں۔ ایسا مومن اس خاص لمحے میں پوری کائنات کے لیے قابلِ رشک بن جاتا ہے۔ اس وقت وہ اللہ کا ایسا ذکر کرتا ہے جس سے زمین اور آسمان بھی عاجز ہو گئے۔
یہ ایک تخلیقی نوعیت کا اعلیٰ ربانی ذکر ہوتا ہے۔ آزمائش مومن کے لیے ایک ربانی تجربہ ہوتی ہے۔ آزمائش مومن کی حساسیت یعنی sensitivity میں اضافے کا باعث بنتی ہے۔ اس وقت اس کی زبان سے ذکر و دعا کے جو الفاظ نکلتے ہیں، وہ صرف معلوم الفاظ کی تکرار نہیں ہوتے، بلکہ وہ تخلیقی نوعیت کی دعا ہوتی ہے۔
اس وقت وہ اپنے رب کو ایسے الہامی الفاظ میں پکارنے لگتا ہے جس کو خود اس نے بھی اس سے پہلے نہیں جانا تھا۔ علم جب تجربہ بن جائے، اور الفاظ جب حساسیت میں ڈھل جائیں، اس وقت مومن کی زبان سے جو کلمات نکلتے ہیں، وہ کلمات اتنے اعلیٰ ہوتے ہیں کہ خود اللہ کو اس کا سننا محبوب بن جاتا ہے۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 237۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.