شیطان کا پردہ۔ پیغمبرِ اسلام صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک طویل حدیث مروی ہے، اس کا ایک حصہ یہ ہے: «هذه الشياطين يحومون على أعين بني آدم ألا يتفكروا في ملكوت السماوات والأرض، ولولا ذلك لرأوا العجائب». مسند احمد، جلد 2، صفحہ 353۔ یعنی یہ شیاطین بنی آدم کی آنکھ کے سامنے منڈلاتے رہتے ہیں، تاکہ وہ آسمان و زمین میں خدائی قدرت پر غور نہ کریں۔
اگر ایسا نہ ہو تو یقیناً وہ عجائب کو دیکھیں۔ ہمارے گرد و پیش جو کائنات ہے، اس کو علمی اصطلاح میں فطرت یعنی نیچر کہا جاتا ہے۔ اس وسیع عالمِ فطرت میں بے شمار واقعات یا مظاہر ہیں جو ہر وقت انسان کے سامنے آتے رہتے ہیں؛ ہر آنکھ والا انسان ان کو دیکھتا ہے اور ان کا تجربہ کرتا ہے۔ لیکن بیشتر لوگوں کا حال یہ ہے کہ وہ اس آیت کا مصداق بنے رہتے ہیں: «وَكَأَيِّمْ مِنْ آيَةٍ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ يَمُرُّونَ عَلَيْهَا وَهُمْ عَنْهَا مُعْرِضُونَ».
سورہ نمبر 12، آیت 105۔ یہ کائناتی واقعات دراصل خدائی نشانیاں، یعنی ڈیوائن سائنس ہیں، اور تخلیق یعنی کریچر کی صورت میں اپنے خالق یعنی کریٹر کا تعارف ہیں۔ انسان اگر کھلی آنکھ سے دیکھے تو وہ ان واقعات میں عجائبِ قدرت کا مشاہدہ کرے گا، لیکن شیطان آدمی کے ذہن میں ایسی باتیں ڈالتا ہے کہ وہ ان کائناتی واقعات کو صحیح زاویۂ نظر سے نہ دیکھ سکے۔ شیطان آدمی کے ذہن میں یہ تصور ڈالتا ہے کہ یہ سب واقعات خودکار قوانین کا نتیجہ ہیں، نہ کہ خدائی قدرت کا نتیجہ۔
شیطان یہ کوشش کرتا ہے کہ آدمی ان واقعات کو نصیحت کے پہلو سے نہ دیکھے، بلکہ وہ صرف اس نظریے سے دیکھے کہ کس طرح ان کے مادی فوائد حاصل کیے جا سکتے ہیں۔ شیطان یہ کوشش کرتا ہے کہ آدمی اپنے اردگرد کے واقعات کو فار گرانٹڈ طور پر لیتا رہے، وہ ان کے بارے میں زیادہ غور و فکر نہ کرے۔ یہی وہ شیطانی وسوسے ہیں جو انسان کو حقائق کی صحیح معرفت سے محروم کر دیتے ہیں۔ کتابِ معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 244۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.