کائنات پر کنٹرول قرآن کی پہلی آیت یہ ہے: الحمد لله رب العالمين سورہ نمبر 1، آیت 1۔ یعنی ساری حمد اللہ رب العالمین کے لیے ہے۔ یہ دراصل وہ کلمہ ہے جو آدمی کی زبان سے اس وقت بے اختیارانہ طور پر نکل پڑتا ہے، جبکہ وہ کائنات کا مشاہدہ کرے۔ دوربینی مشاہدہ بتاتا ہے کہ کائنات ناقابلِ قیاس حد تک وسیع اور عظیم ہے۔
دوسری طرف، خردبینی مطالعہ بتاتا ہے کہ ناقابلِ مشاہدہ کائنات بھی اتنا ہی زیادہ عظیم ہے جتنا کہ قابلِ مشاہدہ کائنات۔ ساری ترقیوں کے باوجود ابھی تک انسان نہ کائنات کی وسعتوں کا اندازہ کر سکا ہے، اور نہ وہ کائنات کی عظمتوں کو دریافت کرنے میں کامیاب ہو سکا ہے۔ یہ وسیع اور عظیم کائنات مسلسل طور پر متحرک ہے؛ اس کے اندر ہر لمحہ انتہائی بامعنی قسم کی سرگرمیاں، یعنی meaningful activities، جاری ہیں۔ مطالعہ مزید بتاتا ہے کہ یہ عطا کائنات مکمل طور پر ایک بے نقص کائنات، یعنی faultless universe ہے۔
بے نقص حالت میں کائنات کا اس طرح قائم رہنا صرف اس وقت ممکن ہے جبکہ اس نظام میں کوئی ادنیٰ تغیر، یعنی alteration، نہ آئے۔ کائنات کے اندر ایک ادنیٰ تغیر بھی اس کے پورے نظام کو درہم برہم کر سکتا ہے۔ جدید مطالعہ بتاتا ہے کہ کائنات ناقابلِ قیاس حد تک وسیع ہونے کے باوجود آخری حد تک ایک ہم آہنگ، یعنی harmonious کائنات ہے۔ وہ مکمل طور پر ایک واحد فورس سے کنٹرول ہو رہی ہے؛ اس کے تمام اجزا ایک دوسرے سے کامل طور پر جڑے ہوئے ہیں۔
کائنات کی اس عالمی ہم آہنگی پر تمام سائنسدان حیران و حیرت زدہ ہیں۔ کائنات کی اس عالمی ہم آہنگی پر تمام سائنسدان حیرت زدہ ہیں۔ ان کی سمجھ میں نہیں آتا کہ اس غیر معمولی ہم آہنگی کی توجیہ کس طرح کی جائے۔ کائنات کے اندر یہ بے پناہ نظم اس بات کا ثبوت ہے کہ یہ کائنات ایک قادرِ مطلق خدا کے زیرِ انتظام ہے۔
اگر ایسا نہ ہو تو پوری کائنات ایک لمحے کے اندر منتشر ہو کر رہ جائے۔ کائنات کے اندر یہ کامل ہم آہنگی صرف اس وقت ممکن ہے جبکہ اس کا ناظم اپنے اندر قدرتِ کاملہ کی صفت رکھتا ہو۔ کتابِ معرفت مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 234۔
اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔
Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.