Maulana Wahiduddin Khan
4 min left
0:00

← Kitaab-e-Marifat
Kitaab-e-Marifat

Taqliqi karishma,Zaati kamaal.

Urdu · 4 min

تخلیقی کرشمہ، ذاتی کمال۔ انسان تخلیقِ خداوندی کا شاہکار ہے؛ وسیع کائنات میں انسان جیسی کوئی مخلوق موجود نہیں۔ قرآن میں بتایا گیا ہے کہ انسان کو اس کے پیدا کرنے والے نے اس کو مکرم مخلوق کے طور پر پیدا کیا ہے، سورہ نمبر 17 آیت 70۔ اسی طرح انسان کو اس کے پیدا کرنے والے نے اس کو احسن تقویم کے ساتھ پیدا کیا ہے، سورہ نمبر 95 آیت 4۔

اسی طرح انسان کو اس کے پیدا کرنے والے نے اس کو بہترین صورت کے ساتھ پیدا کیا ہے، سورہ نمبر 40 آیت 64۔ یہ بات قرآن میں مختلف انداز سے بار بار بیان کی گئی ہے۔ انسان بلاشبہ تخلیقِ خداوندی کا شاہکار ہے۔ اگر آپ اپنے وجود کو اس حیثیت سے دریافت کریں تو آپ کے اندر حمدِ خداوندی کا ایک طوفان برپا ہو جائے گا۔

آپ محسوس کریں گے کہ یہ آپ کے اوپر خالق کا اتنا بڑا احسان ہے کہ اس کو بیان کرنے کے لیے تمام انسانی الفاظ بھی ناکافی ہیں۔ یہ دریافت آپ کو دعا کے لیے ایک عظیم پوائنٹ آف ریفرنس دے دے گی۔ آپ پکار اٹھیں گے کہ خدایا! تو نے دنیا میں میرے ساتھ اتنی بڑی رحمت کا معاملہ فرمایا، اب کیا آخرت میں تو مجھ کو اپنی رحمتوں سے محروم کر دے گا؟

کیا تو اپنی اس شاہکار تخلیق کو جہنم کے شعلوں کے حوالے کر دے گا؟ مگر عجیب بات ہے کہ لوگ انسان کو تخلیقِ الٰہی کے شاہکار کے طور پر دریافت نہیں کر پاتے۔ ہر ایک اس کو صرف انسان کے ذاتی کمال کے طور پر دریافت کیے ہوئے ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہے کہ ہر آدمی اپنی ذات میں جیتا ہے۔

ہر آدمی اپنے وجود سے صرف عجب، یعنی پرائیڈ کی غذا لیتا ہے۔ ہر آدمی شعوری یا غیر شعوری طور پر اپنے ہی کو سب کچھ بنائے ہوئے ہے۔ دوسری قسم کے لوگ وہ ہیں جو اس سے شخصیت پرستی کی غذا لے رہے ہیں۔ وہ اپنے بڑوں میں جب یہ تخلیقی کمالات دیکھتے ہیں تو وہ ان کمالات کو خود انہی بڑوں سے منسوب کر کے ان کی تعظیم و تقدیس کرنے لگتے ہیں۔

جس کمال کو خالق کی طرف منسوب کرنا چاہیے، اس کو وہ مخلوق سے منسوب کر دیتے ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ خالق کی پرستش کے بجائے مخلوق کی پرستش میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔ کتاب معرفت، مولانا وحید الدین خان، صفحہ نمبر 233۔

Highlights
Reading

اللہ کی معرفت دین کی روح ہے۔ معرفت کے بغیر دین ایک بے جان صورت بن جاتا ہے۔

Typeface
Page
Background
Text sizeAaAa
Line spacing
Word spacing
Paragraphs
Alignment
First line
Listening
Speed
Keep readingwhere playback stops
Related content

Nothing is attached to this chapter yet — no quoted source it cites, and no lecture where the same passage is discussed.